Home » سینیٹ ٹکٹوں کی بندر بانٹ پر تحریک انصاف میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے،تنظیمی عہدیداروں کی وزیر اعلیٰ اور اراکین اسمبلی کے گھروں کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی

سینیٹ ٹکٹوں کی بندر بانٹ پر تحریک انصاف میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے،تنظیمی عہدیداروں کی وزیر اعلیٰ اور اراکین اسمبلی کے گھروں کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی

by ahmedportugal
21 views
A+A-
Reset
PTI faces internal revolt in KP over Senate ticket

پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک )خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن سے قبل سیاسی ہلچل آگئی،تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے رہنما وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مدمقابل آ گئے،ناراض رہنماوں کی علی امین گنڈا پور کے ساتھ بیٹھک میں بات نہ بن سکی،ممبران کا حکومت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہو گیا،سٹی صدر رحمان جلال کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو اگلا قدم وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے مظاہرہ ہو گا،ہم ریڈ زون میں نہیں ڈرے جہاں ہم پر گولیاں چلیں،اگر ہماری درخواست پر عمل نہ کیا گیا تو ہم سینیٹ انتخابات کے روز اسمبلی کے اندر نہیں جانے دیں گے،جو بھی ان اے ٹی ایمز مشینوں کو ووٹ دے گا،ان کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا،جس لسٹ کو چیئرمین نے منظور کیا اسے بحال کیا جائے۔
’ایگزو نیوز‘ کے مطابق سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات کی واپسی کے معاملے پر مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوگیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنی بات پر ڈٹ گئے،فیصلہ پارلیمانی کمیٹی نے کردیا جبکہ پولیٹکل کمیٹی اپنے موقف پر قائم ہے، پولیٹیکل کمیٹی نے 5 ناراض امیدواروں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔پولیٹکل کمیٹی کی جانب سے علی امین گنڈا پور کے سامنے تجویز رکھی گئی کہ جمعیت اور پیپلز پارٹی ایک ایک نشست سے دستبردار ہو جائیں پھر ہم کاغذات واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے موقف دیا کہ چونکہ کل رات فیصلہ پارلیمانی پارٹی نے دیا،جس کی روشنی میں بعد ازاں اپوزیشن سے سینیٹ الیکشن پر مفاہمت کے تحت 6 اور 5 کے فارمولے کی منظوری دی گئی،اس لیے اب بات پارلیمانی پارٹی کے فیصلے سے ہی جڑی ہے تاہم پولیٹکل کمیٹی کے ارکان بھی اپنے موقف پر قائم رہے اور انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بتایا کہ گزشتہ رات پولیٹیکل کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ 5 امیدوار اپنے کاغذات واپس نہیں لیں گے تاہم اگر اپوزیشن کے ساتھ ہونے والے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے جے یو آئی اور پیپلز پارٹی سے ایک ایک نشست واپس لی جائے تو آگے کے معاملات پر غور کیا جا سکتا ہے،جس کے بعد مذکرات کا یہ دور ختم کر دیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں 5 ناراض امیدوار عرفان سلیم ،عائشہ بانو ،ارشاد حسین،وقاص اورکزئی اور خرم ذیشان شامل تھے جبکہ پولیٹکل کمیٹی کی طرف سے شوکت بسرا،سلمان اکرم راجہ،بیرسٹر گوہر،تیمور جھگڑا اور ارباب شیر علی موجود تھے۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کے سابق سٹی صدر رحمان جلال نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی جس میں کہا کہ ہم دکھ کے ساتھ یہاں آئے ہیں،سینیٹ انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کے تمام امیدواروں کا ناموں کا اعلان کیا گیا،عرفان سلیم کی 23 سالہ خدمات ہیں،نو مئی کے واقعے کے بعد تحریک انصاف میں کئی چہرے تھے جو بک گئے یا چلے گئے مگر عرفان سلیم ان میں سے ہیں جن پر ظلم ڈھائے گئے لیکن وہ جھکے نہیں لیکن سینیٹ انتخابات میں ایک بھونڈے طریقے سے عرفان سلیم کو باہر کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک مشکوک شخصیت بجٹ پاس کروانے اڈیالہ جیل چلی جاتی ہے کسی کو علم نہیں،ہماری کمپنی نے اپنی رائے پر مشتمل فہرست بھیجی تو اس میں عرفان سلیم شامل تھے لیکن جب گوہر صاحب اڈیالہ جیل سے باہر نکلے تو اس میں عرفان سلیم کا نام شامل نہیں تھا،ہم نے خان صاحب سے سیکھا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز نہ بلند کرنے والا بھی ظالم ہے،اب عرفان سلیم کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن ہمارے با ضمیر کارکن ان کے پیچھے کھڑے ہیں، وفادار اور مخلص کارکنوں کو آگے لانا چاہیے، سینیٹ انتخابات کی لسٹ پر نظر ثانی کیا جائے،اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو اگلا قدم سی ایم ہاوس کے سامنے مظاہرہ ہو گا، ہم ریڈ زون میں نہیں ڈرے جہاں ہم پر گولیاں چلیں اگر ہماری درخواست پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ہم سینیٹ انتخابات کے روز اسمبلی کے اندر نہیں جانے دیں گے جو بھی ان اے ٹی ایمز مشینوں کو ووٹ دیں گے ان کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا،جس لسٹ کو چیئرمین نے منظور کیا اسے بحال کیا جائے۔

رحمان جلال نے کہا کہ جس نے نو مئی کی مذمت کی آج اس کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا،یہ مرزا آفریدی کون ہے آخر؟ کبھی بھی اس نے کسی مظاہرے میں حصہ لیا؟پی ٹی آئی میں کوئی گروپنگ نہیں،صرف ایک گروپ ہے اور وہ ہے عمران خان،15 ایم پی ایز نے ہمیں یقین دلادیا ہے کہ وہ سینیٹ میں ہمارے امیدوار عرفان سلیم کو ووٹ دیں گے،ہمارے سیکرٹری علی اصغر نے 15 جولائی کو لسٹ نکالی تھی اس میں دوسرا نمبر عرفان سلیم کا تھا،ہمارے ساتھ 13 سے 15 ایم پی ایز ہیں،جب رزلٹ آیا تو سب کو پتا چل جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہمیں مرزا آفریدی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ عرفان سلیم کو کیوں لسٹ سے باہر نکالا؟۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز