Home » راولپنڈی فائرنگ پر پی ٹی آئی کا ردعمل،تحقیقات سے پہلے سیاسی الزام ناقابلِ قبول،شفاف جوڈیشل تحقیقات اور شواہد منظرعام پر لانے کا مطالبہ

راولپنڈی فائرنگ پر پی ٹی آئی کا ردعمل،تحقیقات سے پہلے سیاسی الزام ناقابلِ قبول،شفاف جوڈیشل تحقیقات اور شواہد منظرعام پر لانے کا مطالبہ

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سیاسی محاذ بھی گرم ہوگیا ہے،پاکستان تحریکِ انصاف(پی ٹی آئی) نے واقعے پر حکومت کی جانب سے فوری سیاسی الزامات عائد کیے جانے کو مسترد کرتے ہوئے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ اصل حقائق سامنے آنے سے قبل کسی سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں کو ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں جبکہ پارٹی نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری،سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام دستیاب شواہد منظرعام پر لانے اور ذمہ داروں کا تعین آزادانہ تحقیقات کے ذریعے کرنے پر زور دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف نے راولپنڈی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر غیرجانبدارانہ، شفاف اور جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی فرد،سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں کو محض الزامات کی بنیاد پر ذمہ دار قرار دینا قابلِ قبول نہیں۔پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف ایک پرامن،آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اس نے ہمیشہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جمہوری و پرامن ذرائع اختیار کیے ہیں۔بیان میں راولپنڈی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کے اصل حقائق سامنے لانے کے لیے مکمل،شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ کسی بے گناہ شخص یا سیاسی جماعت کو سیاسی مفادات کے تحت موردِ الزام نہ ٹھہرایا جاسکے۔

تحریک انصاف نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی پرتشدد کارروائیوں کو اپنی سیاسی جدوجہد کا حصہ سمجھتی ہے۔پارٹی کے مطابق اگر کوئی شخص قانون شکنی میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تاہم کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں کے بارے میں حتمی رائے تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر ہی قائم کی جانی چاہیے۔پی ٹی آئی کے بیان میں مسلم لیگ ن کی جانب سے واقعے پر فوری سیاسی ردعمل کا بھی حوالہ دیا گیا اور سوال اٹھایا گیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات،شواہد کے حصول اور حقائق کے تعین سے قبل سیاسی نتیجہ اخذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کے ماضی کے بعض سیاسی و احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اس امر پر بھی اعتراض کیا کہ واقعے کے فوراً بعد ایک مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی واقعے کو سیاسی مخالفین کے خلاف الزام تراشی،کردار کشی یا سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔پارٹی کے مطابق اصل ذمہ داروں کا تعین پریس کانفرنسوں یا سیاسی بیانات کے ذریعے نہیں بلکہ آزادانہ،شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ واقعے سے متعلق تمام دستیاب شواہد کو محفوظ کیا جائے اور تحقیقات کا حصہ بنایا جائے،جن میں سی سی ٹی وی فوٹیج،جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد،فرانزک مواد اور دیگر متعلقہ ریکارڈ شامل ہیں۔پی ٹی آئی نے مزید مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ واقعے کے محرکات،ذمہ دار افراد اور اس سے متعلق تمام حقائق واضح ہوسکیں۔تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی سیاسی جماعت یا اس سے وابستہ افراد کو بلاجواز موردِ الزام ٹھہرانے سے گریز کیا جائے اور قانون و انصاف کے تقاضوں کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے۔پارٹی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ سیاسی اختلافات کو آئینی،جمہوری اور پرامن طریقے سے آگے بڑھایا جانا چاہیے جبکہ کسی بھی پرتشدد واقعے کے ذمہ دار افراد کا تعین شفاف قانونی کارروائی کے ذریعے کیا جانا ضروری ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز