اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما شیخ وقاص اکرم نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی دوغلے پن، فکری دیوالیہ پن اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے بات چیت کی دعوت درحقیقت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عوامی دباو کم کرنے کی ایک حکمت عملی ہے، جس کا سنجیدہ سیاسی حل سے کوئی تعلق نہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپنے بیان میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت کا رویہ اس کی شدید گھبراہٹ کو ظاہر کرتا ہے جبکہ پی ٹی آئی سے معافی مانگنے جیسے مطالبات حکمرانوں کی بوکھلاہٹ اور غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیشگی شرائط کے ساتھ مذاکرات کی بات کرنا دراصل مذاکرات کے تصور کی توہین ہے،کیونکہ حقیقی اور با مقصد ڈائیلاگ ہمیشہ برابری اور خلوص کی بنیاد پر ہوتا ہے،نہ کہ دباو اور شرائط پر۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی ملک کو درپیش سیاسی،آئینی اور جمہوری بحرانوں کا حل چاہتی ہے تو اسے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس پلیٹ فارم پر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کی گنجائش موجود ہے اور حکومت محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جیسے رہنماوں سے رابطہ کرے،جو اس وقت مختلف سیاسی قوتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
شیخ وقاص اکرم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کسی صورت موجودہ حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہو گی،وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش متضاد بیانات اور دوغلی پالیسیوں پر مبنی ہے،جس سے حکومت کی نیت پر سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک طرف سیاسی انتقام،گرفتاریوں اور دباو کی سیاست جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب مذاکرات کا دعویٰ کر رہی ہے،جو کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔پی ٹی آئی رہنما کے مطابق جب تک آئین کی بالادستی،قانون کی حکمرانی اور سیاسی آزادیوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے،اس وقت تک مذاکرات محض ایک نمائشی عمل رہیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے اس پیشکش کو مسلسل مسترد کیا جا رہا ہے، جسے وہ حکومت کی سیاسی مجبوری اور تضاد پر مبنی حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔