کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے سندھ حکومت کی جانب سے باغ جناح میں جلسے کی اجازت ملنے کے باوجود اس مقام پر جلسہ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جب کہ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ آج اتوار کو مزار قائد کے عوامی گیٹ کے سامنے دوپہر 2 بجے عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی بھی شریک ہوں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کراچی کی ترجمان فوزیہ صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ باغ جناح کے لیے این او سی انتہائی تاخیر سے جاری کیا گیا، جس کے باعث جلسے کی تیاری ممکن نہ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کی شام تک مسلسل تیاریوں اور پریس کانفرنس کے باوجود این او سی جاری نہیں کیا گیا، اور اچانک شام ساڑھے چھ بجے اجازت نامہ دینا بدنیتی پر مبنی اقدام ہے۔فوزیہ صدیقی نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت ابتدا ہی سے اجازت دینے کے موڈ میں نہیں تھی اور جان بوجھ کر وقت ضائع کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر بروقت اور واضح موقف اختیار کیا جاتا تو پارٹی اپنی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں منظم کر سکتی تھی تاہم آخری وقت میں این او سی جاری کر کے جلسے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت سندھ عوامی طاقت سے خوفزدہ ہے اور اسی خوف کے تحت رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز کراچی میں عوامی ردعمل نے حکمرانوں کو پریشان کر دیا ہے، اسی لیے اب فیصلوں میں بدنیتی واضح نظر آ رہی ہے۔فوزیہ صدیقی نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام آج اتوار کو مزار قائد کے عوامی گیٹ پر اپنے مہمان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ بھرپور شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے آئینی اور جمہوری حق سے پیچھے ہٹنے والی نہیں، اور عوامی طاقت کے ذریعے ہر سازش کا جواب دیا جائے گا۔پی ٹی آئی قیادت کے مطابق مزار قائد پر ہونے والا جلسہ نہ صرف سیاسی قوت کا مظاہرہ ہوگا بلکہ سندھ حکومت کی مبینہ رکاوٹوں کے خلاف واضح پیغام بھی دے گا کہ کراچی کے عوام کسی دباو کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
حکومتی چالبازیوں کا جواب،پی ٹی آئی کا باغ جناح سے انکار،مزار قائد پر عوامی طاقت کا اعلان
3