Home » راولپنڈی میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ،پی ٹی آئی سے مبینہ وابستگی رکھنے والا حملہ آور ہلاک،اسلحہ و پارٹی پرچم برآمد

راولپنڈی میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ،پی ٹی آئی سے مبینہ وابستگی رکھنے والا حملہ آور ہلاک،اسلحہ و پارٹی پرچم برآمد

by ahmedportugal
17 views
A+A-
Reset

راولپنڈی(ایگزو نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعے میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی کے نتیجے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا جبکہ واقعے کے بعد شہر کے اہم مقامات اور تھانہ کینٹ کی حدود میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے،جس کے بارے میں سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ ضلع خیبر کا رہائشی اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کا سرگرم کارکن تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق راولپنڈی کے مال روڈ پر فلیش مین ہوٹل کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا،جہاں ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار کے شہید اور دو جوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے،جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کردیا۔راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعہ دن 11 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ترجمان کے مطابق محمد حسین نامی شخص نے سیکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم کو پستول سے نشانہ بنایا،جس پر اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔پولیس کے مطابق ہلاک شخص کے موبائل فون اور دیگر سامان کو قبضے میں لے کر شواہد کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ واقعے کے محرکات اور ممکنہ روابط کا تعین کیا جاسکے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا محمد حسین ضلع خیبر کا رہائشی تھا اور مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کا سرگرم کارکن تھا۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعض سیاسی شخصیات اور خیبر سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ بھی روابط تھے تاہم ان مبینہ سیاسی روابط کی نوعیت اور فائرنگ کے واقعے سے ان کے ممکنہ تعلق کی حتمی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔

ذرائع کے مطابق ہلاک شخص کے قبضے سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی کا پرچم،آتشیں اسلحہ،گولیاں اور بعض دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں ۔پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے برآمد شدہ اشیا،موبائل فون اور دیگر مواد کا فرانزک جائزہ لیا جارہا ہے۔حکام کے مطابق اس عمل سے حملہ آور کے ممکنہ سہولت کاروں،رابطوں اور واقعے کے پس منظر سے متعلق مزید معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ محمد حسین ماضی میں بعض احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پرتشدد واقعات میں ملوث رہا تاہم اس حوالے سے بھی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد تاحال سامنے نہیں آئے۔پولیس کی تحقیقات میں ان دعووں کو بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔واقعے کے بعد راولپنڈی کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر نگرانی بڑھا دی ہے۔مال روڈ اور تھانہ کینٹ کی حدود میں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں اضافہ کیا گیا جبکہ واقعے کے مختلف پہلووں سے تحقیقات جاری ہیں۔

واقعے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پر مبینہ طور پر تشدد کی سیاست کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کی احتجاجی سرگرمیوں اور مستقبل کے احتجاج کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ہلاک شخص کے قبضے سے مبینہ طور پر پارٹی پرچم اور دیگر اشیا کی برآمدگی اس معاملے کی مزید تحقیقات کی متقاضی ہے تاہم کسی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کو براہِ راست فائرنگ کے واقعے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے تحقیقات اور قابلِ تصدیق شواہد کا سامنے آنا ضروری ہو گا۔پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے کی تفتیش مختلف پہلووں سے جاری ہے۔ہلاک شخص کے موبائل فون،دستاویزات،اسلحے اور دیگر سامان کا فرانزک تجزیہ کیا جارہا ہے جبکہ اس کے ممکنہ رابطوں اور پس منظر کی بھی چھان بین کی جارہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔راولپنڈی کے انتہائی حساس علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے سیکیورٹی صورتحال پر تشویش پیدا کردی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے محرکات،حملہ آور کے ممکنہ نیٹ ورک اور کسی ممکنہ سہولت کاری سمیت تمام پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز