لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی قیادت کے خفیہ لاہور دورے کی خبر سامنے آ گئی ہے، جس میں اسد قیصر اور جنید اکبر خان نے مقامی قیادت کو لاعلم رکھتے ہوئے مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ شادی کے ایک سماجی موقع کے بہانے ہوا لیکن ملاقاتیں سیاسی نوعیت کی تھیں، جس سے پارٹی کے اندر اور عوامی حلقوں میں حیرت و تجسس پیدا ہو گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر خان اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے لاہور کے ”خاموشی کے ساتھ“ دورے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں دونوں رہنماوں نے مختلف مقامات پر اہم ملاقاتیں کیں، اس دورے سے متعلق پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کو نہ تو پیشگی آگاہ کیا گیا اور نہ ہی کسی مقامی رہنما کو ملاقاتوں میں شریک کیا گیا۔جنید اکبر خان اور اسد قیصر لاہور میں مقامی تاجر سلمان حسیب چوہدری کی بیٹی کی شادی پر مبارک باد دینے کے لیے پہنچے تھے۔سلمان حسیب چوہدری دو سال قبل تک پاکستان تحریک انصاف کا حصہ رہے تاہم عمران خان اور علیم خان کے درمیان اختلافات کے بعد وہ علیم خان گروپ میں شامل ہو گئے تھے۔لاہور آمد پر پی ٹی آئی کے دونوں رہنماوں کا استقبال سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کیا۔اس موقع پر اسد قیصر اور جنید اکبر نے لاہور کے مختلف مقامات پر سیاسی ملاقاتیں بھی کیں، جنہیں پارٹی کے اندر غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
لاہور میں مقامی رہنماوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اگر اس ملک میں رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہو گا،موجودہ حالات میں جو ظلم ہو رہا ہے وہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ پوری قوم کے ساتھ ہو رہا ہے کیونکہ عوام سے ان کا بنیادی حق،یعنی ووٹ کا حق چھین لیا گیا ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے والے سے زیادہ اہم ووٹ گننے والا ہو چکا ہے،اگر کسی عوامی نمائندے کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں تو وہ عوام کی نمائندگی کیسے کر سکتا ہے،جب عوام کے پاس ووٹ کا اختیار ہوتا ہے تو منتخب نمائندہ بھی عوام کی قدر کرتا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 8 فروری کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے کیونکہ اسی دن عوام سے ان کا آئینی حق چھینا گیا،عوام کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ ملک میں نمائندے بیلٹ کے ذریعے منتخب ہوں گے یا دفتروں میں بیٹھے افراد کے فیصلوں سے،اگر عوام نے اپنے ووٹ کے حق کی حفاظت نہ کی تو پھر کسی سطح پر شنوائی ممکن نہیں رہے گی۔انہوں نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسمبلی کی کوئی ایک ایسی قانون سازی بتا دی جائے جو عوام کے مفاد میں ہو یا کوئی ایک ایسا حکومتی اقدام سامنے لایا جائے جس سے عوام کو حقیقی ریلیف ملا ہو۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی،بے روزگاری اور بدامنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومتی پالیسیاں عوام کے بجائے مخصوص طبقے اور اشرافیہ کے مفادات کے لیے ترتیب دی جا رہی ہیں،عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ 8 فروری کو اپنے ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے گھروں سے نکلیں۔اسد قیصر نے ٹرانسپورٹ برادری سے 8 فروری کو مکمل ہڑتال اور تاجر برادری سے شٹر ڈاون کی اپیل بھی کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس دن پوری دنیا کو پیغام دیا جائے گا کہ پاکستانی عوام اپنے حقِ رائے دہی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 8 فروری کو پاکستانی عوام نے تحریک انصاف کو 180 نشستیں دی تھیں جبکہ نواز شریف کی جماعت کو صرف 17 نشستیں ملی تھیں،اس کے باوجود آج وہی جماعت حکمرانی،قانون سازی اور پالیسی سازی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو سب نے ووٹ کے حق کے لیے نکلنا ہے۔دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی 9، 10 اور 11 دسمبر کو لاہور کا دورہ کریں گے، جہاں وہ تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کے لیے مقامی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔