راولپنڈی(ایگزو نیوز ڈیسک)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے صاحب اقتدار کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دیا کہ تحریک کی شدت جتنی بھی ہو،مذاکرات کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔
ایگزونیوز کے مطابق اڈیالہ جیل کے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےبیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ حالات کی شدت کا جو تقاضا ہے اس کے مطابق کسی چیز میں پراگرس نہیں ہو رہی،سسٹم ساکت ہو چکا ہے،ہم اور کیا کر سکتے ہیں،جتنا ہم کر سکتے تھے ،ہم نے کیا ہے،عوام سڑکوں پر نکلتی ہے،شٹر ڈاون ہوتا ہے،عدالتوں میں جاتے ہیں،آج ملاقات کی بھیک مانگنے آئے ہیں لیکن اجازت نہیں دی جا رہی،حالات کی سنگینی کے پیش نظر کسی نہ کسی طریقے سے اس صورتحال کا حل نکالا جائے،ہم مذاکرات کی بھیک مانگتے ہیں،صاحب اقتدار دل بڑا کریں اور رحم کریں،حالات بدلنے کے لیے ملاقات کی اجازت دیں۔بیرسٹرگوہر خان نے کہاکہ مذاکرات رواں سال کے اختتام کے باوجود موثر طریقے سے آگے نہیں بڑھ رہے اور نئے سال میں داخل ہونے کے باوجود صورتحال کی نزاکت برقرار ہے،جس کے باعث 2026 بھی مشکلات کا سال بن سکتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی نے کبھی مذاکرات کال آف نہیں کیے اور سہیل آفریدی کا دورہ لاہور پارٹی کی مشاورت کے مطابق نہیں بلکہ بانی کی ہدایات پر ہوا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی ہر منگل کو ملاقات کے لیے حاضر ہوتی ہے لیکن مقررہ وقت کے بعد واپس چلے جاتے ہیں کیونکہ نظام ساکت ہو چکا ہے،آج ہم جو ملاقات کی بھیک مانگ رہے ہیں اس میں دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کا بھی ہاتھ ہے، کہ ہر مرتبہ ہم یہاں سے مایوس ہو کر جاتے ہیں،بہت ہو گیا،میں یہ سمجھتا ہوں کہ تحریک اپنی جگہ وہ جس شدت سے بھی چلے اور جس طریقے سے بھی چلے لیکن مذاکرات کو کوئی متبادل نہیں،جس طریقے سے حالات تقاضا کر رہے ہیں اس سپیڈ سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے اندر مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو ہے اور انہی کے ذریعے مذاکرات کا روڈ میپ دیا جائے گا لیکن میں سارے صاحب اقتدار لوگوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ بہت ہو گیا،اس دھرتی،اس ملک کے عوام،جمہوریت ،ملک کے بچوں اور اس ملک کے مستقبل پر کوئی ترس کرو،ہمارے لئے تو سسٹم ساکت ہو چکا ہے،اگر سسٹم ساکت نہ ہوتا ہو ہم روز یہاں نہ کھڑے ہوتے اور اپنے بھائیوں سے یہ درخواست نہ کر رہے ہوتے کہ ہمیں جانے کی اجازت ہے یا نہیں ہے؟ہم ایس او پیز اور کورٹ آرڈر کے مطابق ملاقات کے لئے آتے ہیں،اس لئے میری تمام صاحب اقتدار لوگوں سے درخواست ہے کہ ملک ،جمہوریت اور عوام کی خاطر اس دھرتی پر اب ترس کرو۔بیرسٹر گوہر خان نے درخواست کی کہ کم از کم بشریٰ بی بی کی ملاقات کی اجازت دی جائے تا کہ مذاکرات کے عمل کو جاری رکھا جا سکے ۔بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا کہ احتجاج پارٹی کا آئینی حق ہے اور اس حوالے سے پارٹی کو بانی کی ہدایات موصول ہیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن کے ساتھ سیز فائر ہونے کے باوجود پارٹی کے اندر تناوختم نہیں ہوا اور پارٹی ہر ممکنہ اقدام کے لیے تیار ہے تا کہ حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔
بھیک مانگتے ہیں ملاقات کی اجازت دو،ملک پر رحم کرو،پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی حکومت سے اپیل
2