اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت آئندہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے بجائے باضابطہ طور پر احتجاج کرتے ہوئے بائیکاٹ کرے گی، ایوان میں پی ٹی آئی کے ارکان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، نشستوں کے چھینے جانے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن نے پارلیمانی جدوجہد کو ناممکن بنا دیا ہے،عمران خان نے اسمبلی سے استعفوں کا حکم دیا تو مجھ سمیت تمام ممبران استعفیٰ دیں گے، جن ایم این ایز کو سزائیں سنائی گئی ان کی سیٹوں پر احتجاجا حصہ نہیں لیں گے، آج قومی اسمبلی میں شرکت کی آئندہ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کے پی ہاوس میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اجلاس میں بانی تحریک انصاف کے احکامات ارکان کو پڑھ کر سنائے گئے، جنہیں پارٹی نے متفقہ طور پر درست قرار دیا۔ اس موقع پر شہداءکے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے بجائے احتجاجی بائیکاٹ کے ذریعے اپنا موقف پیش کرے گی، ہمارے ارکانِ قومی اسمبلی کو مختلف حیلوں بہانوں سے نااہل کیا گیا اور ان کی نشستیں چھین لی گئیں، اگرچہ ہم نے ایوان میں حاضر ہو کر جمہوری طریقے سے اپنے مطالبات پیش کرنے کی کوشش کی لیکن ہمیں بولنے تک کی اجازت نہیں دی گئی، ہماری آواز کو دبایا گیا پارلیمنٹ کے اندر بھی مائیک بند کیے، یہ جمہوریت نہیں فسطائیت ہے،آپ بولنے نہیں دے رہے یہاں تک کہ جشن آزادی جیسے قومی موقع پر بھی ہمیں اپنے جذبات کا اظہار کرنے نہیں دیا جاتا۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان سب مشکلات اور دباو کے باوجود پی ٹی آئی کے ارکان ایوان میں آتے رہے تا کہ جمہوری روایت برقرار رہے مگر اب یہ طرزعمل نا قابل برداشت ہو چکا ہے،احتجاجی بائیکاٹ اس بات کا اظہار ہے کہ ایوان کو اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مینڈیٹ چرانے کے بعد بھی مذاکرات کا کہا،پاکستان اور بھارت کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے،سیلاب میں سب باتوں سے بالاتر ہوکر ساتھ دیا،بس بہت ہو گیا،الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو سرٹیفکیٹ دیا لیکن پی ٹی آئی کونہیں دیا،ایسی بناوٹی پارلیمنٹ اور کمیٹیوں سے کیا لینا؟ کل سے پارلیمنٹ کے باہر اپنی اسمبلی لگائیں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ تمام پارٹی کی تنظیمیں سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑی ہیں،عمران خان سے بھی ملاقات میں درخواست کریں گے کہ سیلاب زدگان کی فنڈر ریزنگ کیلئے اپیل کریں اور اپنی قوم سے امید رکھتے ہیں کرائسز میں عوام کے دکھ درد میں شریک ہوں۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ سیلاب سندھ کی طرف جا رہا ہے،یو این سے بھی درخواست کریں گے وہ پاکستان کی مدد کرے جبکہ وفاقی حکومت بھی عالمی کمیونٹی سے رابطہ کرے، سیلاب کے باعث ہماری زراعت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران بھی پی ٹی آئی ممبران کو زدوکوب کیا گیا، ہم ڈٹ کر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، سیلاب کے دوران بھی سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے ، اطلاعات ملیں کہ ہمارے امدادی کیمپس اتار دیئے گئے ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے اس فیصلے نے سیاسی منظرنامے کو ایک نئی بحث میں الجھا دیا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاسوں میں اپوزیشن کی غیر موجودگی حکومت اور قانون سازی کے عمل پر کس طرح اثر ڈالتی ہے۔