Home » ایک طرف لانگ مارچ کا اعلان،دوسری طرف حکومتی مذاکرات کی دعوت قبول،گورنر راج یا ایمرجنسی لگی تو حالات مزید بگڑیں گے،بیرسٹر گوہر کا سخت انتباہ

ایک طرف لانگ مارچ کا اعلان،دوسری طرف حکومتی مذاکرات کی دعوت قبول،گورنر راج یا ایمرجنسی لگی تو حالات مزید بگڑیں گے،بیرسٹر گوہر کا سخت انتباہ

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے سیاسی اور وفاقی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے جبکہ ان کی جماعت نے چار اکتوبر کے لانگ مارچ کو سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے پرامن رکھنے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کا سلسلہ بھی آگے بڑھا ہے اور حکومت کی جانب سے ملاقات کی دعوت پی ٹی آئی نے قبول کرلی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ سے متعلق مشاورت کی گئی جبکہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی اطلاعات بھی زیرغور آئیں،پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ صوبائی خودمختاری برقرار رہنے سے وفاق مضبوط ہوتا ہے جبکہ عوام کے مینڈیٹ کے برخلاف اقدامات وفاقی اکائیوں کے درمیان فاصلے بڑھا سکتے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ریاست اور پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک میں امن و امان کو اولین ترجیح سمجھتی ہے،پارٹی قیادت نے اپنے تحفظات متعلقہ مشران اور اپوزیشن قیادت کے سامنے رکھ دیے ہیں اور موجودہ سیاسی صورتحال کا حل تصادم کے بجائے سیاسی عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت ایسی صورت حال نہیں جس کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہو،لانگ مارچ پی ٹی آئی کا سیاسی اور اٹل فیصلہ ہے اور اسے پرامن رکھا جائے گا،تحریک انصاف کسی پر چڑھائی کرنے نہیں جارہی بلکہ اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کا آئینی و جمہوری راستہ اختیار کررہی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو اس کے اثرات وفاقی نظام پر بھی مرتب ہوں گے،صوبوں کو خودمختاری دینے سے وفاق مضبوط ہوتا ہے،اس لیے سیاسی اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کیا جانا چاہیے،اگر وفاق کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا گیا تو پی ٹی آئی اس کی مخالفت کرے گی اور دستیاب سیاسی راستے اختیار کرے گی تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ جماعت سیاسی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہی۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور اگر حکومتی وفد بات چیت کے لیے پی ٹی آئی سے رابطہ کرتا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا،پی ٹی آئی کے مطالبات اپوزیشن قیادت کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں اور اب ان نکات پر مزید مشاورت اور مذاکرات ہوں گے۔

اسی سیاسی رابطے کے سلسلے میں بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات کے لیے حکومت کی جانب سے پیغام موصول ہوا ہے،جسے اپوزیشن اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں قبول کرلیا گیا ہے،ملاقات اگلے روز دوپہر بارہ بجے سپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس رابطے کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جارہا ہے جب چار اکتوبر کو پی ٹی آئی کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی تناو بڑھا ہوا ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال اور لانگ مارچ کے معاملے پر مشاورت شروع کر رکھی ہے اور گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی راستوں پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔بیرسٹر گوہر نے اس صورتحال میں مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے دروازے بات چیت کے لیے ہمیشہ کھلے رہے ہیں،اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ سیاسی مسائل پر مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو جماعت اس عمل میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے یہ بھی واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رہے گا،احتجاج پرامن ہوگا اور جماعت کا مقصد کسی ریاستی ادارے یا شہری کے خلاف تصادم نہیں بلکہ اپنے سیاسی موقف اور مطالبات کو سامنے لانا ہے۔خیبرپختونخوا کی حکومت سے متعلق پارٹی کے اندرونی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے عہدے پر برقرار رہنے کی تصدیق کی۔ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رہیں گے اور اس حوالے سے کسی تبدیلی کا فیصلہ نہیں ہوا۔شوکت یوسفزئی سے متعلق سوال پر پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پارٹی کو ان سے کوئی ناراضی نہیں اور وہ اب بھی صوبائی سیکریٹری اطلاعات ہیں۔انہوں نے ان کے خط کو پارٹی کے اندرونی معاملات کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری جماعتوں میں مختلف آرا سامنے آتی رہتی ہیں اور اس معاملے کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ادھر شوکت یوسفزئی کی جانب سے ایک بار پھر لانگ مارچ کے حوالے سے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ لانگ مارچ کے مخالف نہیں اور چار اکتوبر کے احتجاج میں شرکت کریں گے تاہم ان کا موقف ہے کہ اگر احتجاج کے دوران کوئی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری لانگ مارچ کی کال دینے والوں پر عائد ہوگی،انہوں نے اپنی تجاویز پارٹی کے سامنے رکھ دی ہیں۔دوسری طرف وفاقی حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کی حمایت کے بیانات سامنے آئے ہیں۔وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی رہنماوں کے مذاکرات سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پہلے بھی بات چیت کی دعوت دیتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گی تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی کو بھی اپنے سابقہ طرزِ عمل پر غور کرنا ہو گا۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے جب دونوں جانب سے بیک وقت دو مختلف راستے زیرغور ہیں،ایک طرف پی ٹی آئی نے چار اکتوبر کے لانگ مارچ کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف حکومت کے ساتھ ملاقات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔یوں سیاسی کشیدگی کے باوجود رابطے کا ایک راستہ کھلا ہوا ہے۔

ادھر وفاقی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس میں بھی خیبرپختونخوا کی صورتحال،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ،امن و امان اور گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی امکانات پر غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق اس معاملے پر صدر مملکت اور دیگر متعلقہ فریقین سے بھی مشاورت کا امکان ہے۔اس پورے سیاسی منظرنامے میں بنیادی تنازع خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال،صوبائی و وفاقی حکومتوں کے درمیان اختلافات اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ کے گرد گھوم رہا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے امن و امان اور آئینی اختیارات کا حوالہ دیا جارہا ہے جبکہ پی ٹی آئی گورنر راج یا ایمرجنسی کو سیاسی مسئلے کا حل قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے مذاکرات پر زور دے رہی ہے۔

بیرسٹر گوہر کے تازہ بیانات سے بظاہر پی ٹی آئی نے ایک ہی وقت میں دو واضح موقف اختیار کیے ہیں،چار اکتوبر کا لانگ مارچ اپنے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا جائے تو جماعت اس عمل میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے۔اس طرح سیاسی احتجاج اور مذاکرات دونوں راستے فی الحال بیک وقت کھلے رکھے گئے ہیں۔آنے والے دنوں میں سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے ہونے والی ملاقات اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان ممکنہ مذاکرات اس کشیدہ سیاسی صورتحال کی سمت متعین کرنے میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ چار اکتوبر کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی نے تاحال اپنے فیصلے میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز