اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی محکمانہ ترقیوں کے حوالے سے تاریخی اور حیران کن فیصلہ صادر کر تے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کے اہل افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروموشن دی جا سکتی ہے۔
”ایگزو نیوز“ کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کو گریڈ 22 میں ترقی نہ ملنے کیخلاف 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا اور قرار دیا کہ ترقی کا حق نہ سہی لیکن ہر سرکاری ملازم کو زیر غور لایا جانا بنیادی حق ہے،ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ دوبارہ 2 ماہ میں درخواست گزار کا کیس میرٹ پر سنے،درخواست گزار پولیس سروس کے سینئر افسر تھے مگر 3 بار ترقی سے محروم رہے،درخواست گزار کی 2013 سے 2018 تک تمام کارکردگی رپورٹس بہترین تھیں،ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ نے بغیر ٹھوس وجہ ترقی نہ دی،2019 کی کارکردگی رپورٹ نہ ہونے کی وجہ فیلڈ پوسٹنگ کا نہ ملنا تھا،ترقی کے اہل افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروموشن دی جا سکتی ہے۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ منٹس میں منفی ریمارکس بغیر کسی ثبوت کے شامل کیے گئے،درخواست گزار کی ساکھ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا،ریٹائرڈ افسران کو دیر سے انصاف دینا غیر منصفانہ ہے،تمام سرکاری ادارے ترقی کے معاملات میں شفاف اور فوری فیصلے کریں۔
ترقی کے اہل افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروموشن دی جا سکتی ہے،سپریم کورٹ نے حیران کن فیصلہ جاری کر دیا
26
previous post