فیصل آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اوورسیز پاکستانی تاجروں اور شہریوں کے ساتھ ایئرپورٹس پر ناروا رویے کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں، حالیہ واقعہ فیصل آباد ایئرپورٹ پر پیش آیا جہاں ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) اہلکاروں نے معروف سماجی، سیاسی اور مذہبی شخصیت چوہدری کاشف نواز رندھاوا کے ساتھ نہ صرف مبینہ ناروا سلوک کیا بلکہ ان کے خلاف تھانہ ایئرپورٹ میں مقدمہ بھی درج کروا دیا، مقدمے میں ان پر کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا تاہم عدالت نے پیشی کے دوران ہی اسے جھوٹا قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور کاشف نواز رندھاوا کو فوری باعزت رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق کاشف نواز رندھاوا اپنی بیٹی اور بیٹوں کو، جو حافظِ قرآن اور مدینہ یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، الوداع کہنے کے لیے ایئرپورٹ آئے تھے، اسی دوران اے ایس ایف اہلکاروں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا گیا۔ سماجی اور سیاسی حلقوں میں اس اقدام کی سخت مذمت کی جا رہی ہے اور اسے اوورسیز پاکستانیوں کی تذلیل قرار دیا جا رہا ہے۔
ملک منظور احمد، کوآرڈی نیٹر اوورسیز پاکستانیز، نے فیصل آباد ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے ساتھ ایئرپورٹس پر تذلیل کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ ملک منظور احمد نے واضح الفاظ میں کہا کہ اوورسیز کمیونٹی کی قربانیوں اور خدمات کو نظر انداز کرنا کسی طور درست نہیں اور ایسے واقعات نہ صرف پاکستانی شہریوں کو بددل کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔عدالتی کارروائی کے دوران علاقہ مجسٹریٹ نے اے ایس ایف کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے فوری طور پر خارج کر دیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایسے مقدمات نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتے ہیں۔کاشف نواز رندھاوا جو پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، اس واقعے کے بعد قانونی طور پر باعزت بری ہو گئے۔ ان کے خلاف درج مقدمے کے اخراج کو مختلف سماجی اور سیاسی حلقوں نے انصاف کی جیت اور جھوٹے الزامات کے خلاف ایک مثال قرار دیا ہے۔اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ایئرپورٹس پر اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو کب تک نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟ حکومت کو نہ صرف ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں بلکہ ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے واضح پالیسی مرتب کرنا ہوگی تاکہ محنت کش پاکستانی جو بیرونِ ملک اپنے خون پسینے سے زرمبادلہ کما کر وطن بھیجتے ہیں، انہیں اپنے ہی ملک میں تضحیک کا سامنا نہ کرنا پڑے،یہ واقعہ عدالتی سطح پر انصاف کے فوری تقاضے کی ایک مثال تو ضرور ہے تاہم اس نے اداروں کے رویے اور شہریوں کے بنیادی وقار کے تحفظ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی چھوڑ دیا ہے۔
ایئرپورٹ پر معروف سیاسی و سماجی شخصیت سے ناروا سلوک اور ایف آئی آر کا بوگس اندراج،عدالت نے جھوٹا مقدمہ خارج کرتے ہوئے کاشف نواز رندھاوا کو باعزت بری کر دیا
11