سری نگر(ایگزو نیوز ڈیسک)حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اعتدال پسند موقف رکھنے والے پروفیسر عبدالغنی بھٹ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے،ان کا تعلق شمالی کشمیر کے علاقے سوپورو کے قریب واقع گاوں بوتنگو سے تھا،جہاں وہ 1935 میں پیدا ہوئے،ان کی وفات کے بعد کشمیری سیاست اور حریت تحریک ایک اہم اور متوازن آواز سے محروم ہو گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کشمیر کی سیاست اور حریت تحریک ایک ایسی آواز سے محروم ہو گئی جو ہمیشہ اعتدال، مکالمے اور پرامن جدوجہد کی علامت سمجھی جاتی تھی،پروفیسر عبدالغنی بھٹ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔پروفیسر بھٹ نے ابتدائی تعلیم سری پرات کالج سرینگر سے حاصل کی جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارسی اور قانون میں گریجویشن کیا۔ عملی زندگی کا آغاز وکالت سے کیا مگر جلد ہی تدریس سے وابستہ ہو گئے ۔ وہ بہترین استاد سمجھے جاتے تھے اور مختلف کالجز میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے، تاہم 1986 میں سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیے گئے جس کے بعد وہ سیاست کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔
انہوں نے مسلمانوں کی سیاسی جماعت مسلمان یونائیٹڈ فرنٹ کی بنیاد رکھی اور بعدازاں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین منتخب ہوئے،جہاں وہ طویل عرصے تک کشمیری عوام کے موقف کی نمائندگی کرتے رہے۔وہ مسلم کانفرنس جموں و کشمیر کے صدر بھی رہے۔اپنی پوری سیاسی زندگی میں پروفیسر بھٹ نے ہمیشہ مکالمے، افہام و تفہیم اور پرامن تصفیے کی وکالت کی،جس کے باعث انہیں حریت قیادت میں ایک معتدل رہنما کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ان کے انتقال پر مختلف سیاسی و سماجی رہنماوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسے کشمیری عوام کے لیے ایک نا قابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ پروفیسر بھٹ کی جدوجہد،عزم اور قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
کشمیری سیاست کی معتدل آواز خاموش ہو گئی،پروفیسر عبدالغنی بھٹ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
16