اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری سے متعلق پھیلائے جانے والے مبینہ غلط تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس سودے سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے کی معاشی قدر حاصل ہوگی جبکہ پی آئی اے کی مجموعی ویلیو 180 ارب روپے بنتی ہے، جس میں حکومت کے پاس موجود 25 فیصد شیئرز بھی شامل ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیرِ نجکاری محمد علی نے پی آئی اے کی نجکاری کے معاہدے، مالی ساخت اور مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نجکاری کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ پالیسی سازی اور نگرانی ہے، جبکہ نجی شعبہ اداروں کو زیادہ موثر،جدید اور پیشہ ورانہ انداز میں چلا سکتا ہے۔محمد علی نے بتایا کہ پی آئی اے کی مجموعی مالیت 180 ارب روپے لگائی گئی ہے، جس میں حکومت کے پاس موجود 25 فیصد شیئرز کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بنتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اگر مستقبل میں یہ 25 فیصد شیئرز فروخت کیے گئے تو حکومت کو مزید 45 ارب روپے حاصل ہوں گے،یوں اس نجکاری معاہدے سے حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے کی معاشی قدر حاصل ہو گی۔انہوں نے کہا کہ بولی کی مجموعی رقم کا 7.5 فیصد، جو کہ 10 ارب 12 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتا ہے،براہِ راست حکومت کو موصول ہو گا جبکہ باقی 92.5 فیصد رقم،یعنی 124 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے،پی آئی اے پر ہی خرچ کیے جائیں گے تا کہ ادارے کو مالی اور آپریشنل طور پر مستحکم کیا جا سکے۔مشیرِ نجکاری کے مطابق سرمایہ کاری دو مراحل میں کی جائے گی،جس میں دو تہائی رقم ابتدائی طور پر لگائی جائے گی جبکہ باقی ایک تہائی رقم مالی معاملات مکمل ہونے کے 12 ماہ کے اندر پی آئی اے میں شامل کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ اس نجکاری معاہدے میں پی آئی اے کی قیمتی جائیدادیں شامل نہیں ہیں۔
پی آئی اے کی آپریشنل حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ قومی ایئرلائن اس وقت 30 مختلف مقامات پر پروازیں چلا رہی ہے جبکہ اسے 78 ممالک کے لیے نامزد ایئرلائن ہونے کے حقوق حاصل ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کے 97 ممالک کے ساتھ ایئر سروس معاہدے موجود ہیں،جن کے تحت پی آئی اے کو ان ممالک کے لیے آپریٹ کرنے کی قانونی اجازت حاصل ہے۔ان کے مطابق پی آئی اے کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے لینڈنگ رائٹس ہیں،جو بین الاقوامی سطح پر نہایت قیمتی تصور کیے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے پاس مجموعی طور پر 33 طیارے موجود ہیں،جن میں 16 ایئربس اے 320، 12 بوئنگ 777 اور 5 اے ٹی آر شامل ہیں تاہم ان میں سے صرف 19 طیارے اس وقت آپریشنل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملکی ایوی ایشن مارکیٹ میں پی آئی اے کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے،جو اسے ایک نمایاں قومی اثاثہ بناتا ہے۔
مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کے بعد پی آئی اے کے بیڑے میں نئے طیارے شامل کیے جائیں گے اور سروسز کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا،جس سے مسافروں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی اور ایئرلائن کا عالمی سطح پر امیج بھی بہتر ہو گا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے غلط بیانیہ پھیلا رہے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کو محض 10 ارب روپے میں فروخت کر دیا گیا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے،حکومت کو اس معاہدے سے مجموعی طور پر 55 ارب روپے کی قدر حاصل ہو رہی ہے،جسے نظر انداز کرنا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔مشیر نجکاری کے مطابق حکومت نے خریداروں کو بعض مراعات بھی دی ہیں،جن میں جی ایس ٹی سے استثنیٰ،نئے ٹیکسز،لیوی یا سرچارج عائد نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے 26 ارب روپے اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے خریداروں کو پانچ سال کا وقت دیا گیا ہے تا کہ ایئرلائن پر فوری مالی دباو نہ پڑے اور اصلاحاتی عمل موثر انداز میں مکمل ہو سکے۔محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا مقصد ادارے کو منافع بخش،مستحکم اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تا کہ یہ قومی معیشت پر بوجھ بننے کے بجائے ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکے۔