ؒٓلاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کی جنیوا روانگی نے سیاسی حلقوں میں کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے،جہاں اس دورے کو بظاہر نجی قرار دیا جا رہا ہے مگر اس کے پسِ پردہ ممکنہ سیاسی سرگرمیوں پر چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملک کی سیاسی فضا غیر یقینی کا شکار ہے، نواز شریف کی بین الاقوامی سطح پر ملاقاتیں محض اتفاق ہیں یا کسی بڑی حکمت عملی کا حصہ، یہ سوال اب شدت سے زیرِ بحث آ چکا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف نجی دورے پر جنیوا روانہ ہو گئے ہیں، تاہم اس دورے کی نوعیت اور اس کے ممکنہ سیاسی مضمرات نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق اپنے قیام کے دوران نواز شریف نہ صرف قریبی دوستوں بلکہ پارٹی رہنماوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے،جن میں اہم سیاسی امور اور باہمی دلچسپی کے معاملات زیرِ غور آنے کا امکان ہے۔اگرچہ اس دورے کو بظاہر نجی قرار دیا جا رہا ہے تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس نوعیت کی ملاقاتیں اکثر اندرونی سیاسی حکمت عملی سے جڑی ہوتی ہیں،خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند ہے۔جنیوا جیسے عالمی سفارتی مرکز میں ملاقاتوں کو محض اتفاق قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
اس سے قبل نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان گئے تھے،جہاں انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کی ذاتی نگرانی کا اعلان کیا۔ان کے اس بیان کو پارٹی کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور علاقائی اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ جنیوا کا یہ دورہ نہ صرف پارٹی کے اندرونی معاملات بلکہ ممکنہ طور پر وسیع تر سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتا ہے جبکہ یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا یہ سرگرمیاں آنے والے سیاسی مراحل کی تیاری ہیں یا محض ایک معمول کا نجی دورہ۔