اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جیل اصلاحات سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیا ہے، ساتھ ہی اپنی قید کے دوران پیش آنے والے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جیل میں ان کی مشکلات اور تکالیف نے انہیں اصلاحات کی ضرورت کا حقیقی احساس دلایا،جس کی بنیاد پر وہ اب جیل نظام میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جیل اصلاحات سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ میں آج ایک وزیراعلیٰ کے طور پر نہیں بلک ایسی شخصیت کے طور پر کھڑی ہوں جس نے جیل کی دیواروں کو باہر سے نہیں بلکہ ان کے پیچھے سے بھی دیکھا ہےاور اس تجربے نے مجھے ہمیشہ کیلئے بدل دیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی تحویل میں موجود افراد کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داری کیا ہوتی ہےاور قید کی سزا کبھی بھی انسانی وقار کے خلاف سزا نہیں بننی چاہیےجیل اصلاحات ایک محفوظ،مہذب اور متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہیں اور حکومت قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اہم فورم میں شرکت ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہیں، جہاں کوئی بھی فرد قانون سے بالا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف، موثر اور بروقت انصاف کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جبکہ قیدیوں کے حقوق کا تحفظ ایک مہذب ریاست کی پہچان ہوتا ہے۔مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں،جن میں قیدیوں کی ذہنی صحت، کونسلنگ اور بحالی کے پروگرامز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ انہیں معاشرے کا مفید اور ذمہ دار شہری بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے تحت قیدیوں کو آڈیو اور ویڈیو کالز کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے،جس سے ان کے اہل خانہ سے رابطے کو آسان بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جیل میں قید کے دوران جو مشکلات برداشت کیں،وہی ان اصلاحات کی بنیاد بنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قید تنہائی کے اثرات نہایت شدید ہوتے ہیں اور اس کا ذہنی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے،جس کا انہیں خود عملی تجربہ ہوا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اڈیالہ جیل میں انہیں طویل عرصے تک قید تنہائی میں رکھا گیا،جہاں ان کی مشکلات کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ان کے بقول،جیل میں بیماری کے دوران انہیں بروقت طبی امداد بھی میسر نہ آ سکی اور ایک موقع پر شوگر لیول کم ہونے کے باعث انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔مریم نواز نے مزید بتایا کہ جیل میں بنیادی سہولیات کا فقدان تھا، حتیٰ کہ ذاتی پرائیویسی کا بھی کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ انہی تجربات کی روشنی میں پنجاب کی جیلوں میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں،جن میں ایمرجنسی بٹن،بہتر رہائشی سہولیات اور جدید انتظامی نظام شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیل میں ہر قیدی کی اپنی ایک داستان ہوتی ہے، اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ان افراد کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی اصلاح اور بحالی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت جیل اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرے گی تاکہ انصاف کا نظام زیادہ انسانی، شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔