اسلام آباد(بیورو رپورٹ)ملک میں کسان بے حال اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں،ایسے میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر کے کسانوں کے ریلیف دینے کے لئے اہم ترین ہدایات جاری کر تے ہوئے اعلیٰ حکام کو کہا ہے کہ وہ کسانوں کو آسان شرائط پر قرض دینے کے لیے موثرلائحہ عمل بنائیں۔
’ایگزو نیوز ‘کے مطابق زرعی ملک پاکستان میں کسانوں کا سب سے بڑا مسئلہ پیداواری لاگت کو کم کرنا اور فصلات کی قیمتوں کے تعین کا نیا نظام ہے لیکن وفاقی بجٹ میں ان دونوں معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی تھی تاہم اب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی ترقی کے لیے منصوبہ بندی اور ایگری فنانسنگ پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کیلئے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ 12 ایکڑ سےکم زمین والےکسانوں کو زرعی سہولیات کی فراہمی ترجیح ہونی چاہیے،پاکستان کی ترقی زرعی شعبے اور کسانوں کی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن سے مشروط ہے،زرعی شعبے میں ترقی کے لیے چھوٹے کسانوں کو سہولیات دینا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
دوسری طرف پاکستان کسان اتحاد کے سربراہ خالد محمود کھوکھر کا کہنا ہے کہ ہم مسلسل یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ کپاس پر جی ایس ٹی کو ختم کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا،زراعت کے لیے بجلی ٹیرف کم نہیں کیا گیا،کھاد کی قیمت کم نہیں کی گئی،گندم ،گنا کی امدادی قیمت خرید کا پرانا نظام تو ختم کر دیا گیا ہے لیکن کسانوں کے معاشی تحفظ کے لیے نیا پرائس میکنزم متعارف نہیں کروایا گیا،کسانوں کیلیے فصلوں کی قیمت فروخت نصف ہو چکی ہے جس سے کھربوں روپے خسارہ ہوا ہے،انہوں نے زرعی گروتھ ریٹ 4.5 فیصد مقرر کیا ہے لیکن خطرہ ہے کہ یہ منفی میں نہ چلا جائے۔