سکردو(ایگزو نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان میں غیر حتمی انتخابی نتائج کے بعد سیاسی منظرنامہ تیزی سے واضح ہونے لگا ہے،جہاں پاکستان پیپلز پارٹی نے سکردو ون کی اہم نشست اپنے نام کر لی ہے۔اس کامیابی کے بعد پارٹی کارکنوں میں جشن کا سماں ہے جبکہ مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی کئی دیگر نشستوں پر بھی برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات کے مطابق متعدد حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے،جس نے مجموعی انتخابی صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔کئی حلقوں میں ووٹوں کا فرق انتہائی کم ہونے کے باعث حتمی نتائج تک صورتحال غیر یقینی برقرار ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مختلف حلقوں میں مقابلہ دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں کئی نشستوں پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن،استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔جی بی اے 7 سکردو ون کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار سید توقیر مہدی شاہ 4 ہزار 337 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ ان کی جیت کے بعد پارٹی کارکنوں کی جانب سے جشن منایا جا رہا ہے۔اس حلقے میں استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال 3 ہزار 891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔جی بی ون گلگت کے 28 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار امجد ایڈووکیٹ 3 ہزار 600 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے شفیق الدین 2 ہزار 300 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
جی بی اے 8 سکردو کے 37 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج میں پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 6 ہزار 190 ووٹ لے کر برتری پر ہیں جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے میثم کاظم 5 ہزار 978 ووٹوں کے ساتھ ان کے قریب ترین حریف ہیں۔جی بی اے 9 سکردو کے 21 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 2 ہزار 929 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار وزیر سلیم 2 ہزار 665 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔جی بی اے 21 غذر کے 14 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار امان علی عامر 2 ہزار 40 ووٹ لے کر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے غلام محمد 1 ہزار 788 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔مجموعی طور پر مختلف حلقوں میں ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مقابلہ انتہائی سخت ہے اور حتمی نتائج کے اعلان تک صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔