Home » ضیا دور کے جبر سے جمہوری جدوجہد تک بے مثال سیاسی سفر اختتام پذیر،پیپلز پارٹی کی بانی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی بیگم نفیسہ خالد انتقال کرگئیں

ضیا دور کے جبر سے جمہوری جدوجہد تک بے مثال سیاسی سفر اختتام پذیر،پیپلز پارٹی کی بانی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی بیگم نفیسہ خالد انتقال کرگئیں

by ahmedportugal
35 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کی بانی رہنماوں میں شمار ہونے والی اور سابق رکن قومی اسمبلی بیگم نفیسہ خالد انتقال کرگئیں،مرحومہ نے ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ،سیاسی جدوجہد،مزدور حقوق اور عوامی سیاست کے لیے طویل عرصے تک فعال کردار ادا کیا۔ان کی وفات پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی، صوبائی اور ضلعی قیادت سمیت مختلف سیاسی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔بیگم نفیسہ خالد کی نمازِ جنازہ آج بعد از مغرب امام بارگاہ جاگیر علی اکبر،جاتی عمرہ روڈ میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین اے ڈبلیو ٹی فیز 2، جاتی عمرہ بی بلاک قبرستان میں ہوگی۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی بانی رہنماوں میں شمار ہونے والی اور سابق رکن قومی اسمبلی بیگم نفیسہ خالد انتقال کرگئیں،یوں ملکی جمہوری سیاست، مزدور حقوق اور ضیاءالحق کے دورِ جبر کے خلاف جدوجہد میں ایک طویل اور یادگار سیاسی سفر اختتام پذیر ہوگیا۔بیگم نفیسہ خالد نے کئی دہائیوں تک پیپلز پارٹی سے وابستگی برقرار رکھتے ہوئے پارلیمان،عوامی سیاست اور محنت کش طبقے کے مسائل کے لیے فعال کردار ادا کیا جبکہ ان کی وفات پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی بیگم نفیسہ خالد کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سیاسی،پارلیمانی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ مرحومہ نے جمہوریت کے استحکام اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان کا کردار طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔بیگم نفیسہ خالد 1932 میں سہارنپور، بھارت کے ایک معروف سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ان کے خاندانی پس منظر میں تحریک آزادی سے وابستہ شخصیات بھی موجود تھیں۔ان کے والد سید ناظر حسن آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم کارکن اور سہارنپور میونسپلٹی کے چیئرمین رہ چکے تھے جبکہ ان کے خاندان میں جسٹس آغا حیدر کا نام بھی نمایاں طور پر لیا جاتا ہے،جنہوں نے برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کے دور میں اپنے اصولی موقف کے باعث منفرد شناخت بنائی۔قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آنے والی نفیسہ خالد نے ابتدائی طور پر مسلم لیگ (کونسل) کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تاہم 1960 کی دہائی کے سیاسی اور معاشی حالات،عوام خصوصاً محنت کش طبقے کے مسائل اور ملک میں جاری سیاسی کشمکش نے ان کے سیاسی رجحان پر گہرا اثر ڈالا۔1965 کی جنگ کے دوران فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور عام شہریوں کی معاشی مشکلات کو قریب سے دیکھنے کے بعد ان کا جھکاو بائیں بازو کی سیاست کی طرف بڑھا۔اسی دوران ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی افکار سے ان کی قربت پیدا ہوئی اور 1968 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے مرحلے میں وہ پارٹی کی ابتدائی خواتین قیادت سے منسلک ہوگئیں۔

پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے بیگم نفیسہ خالد نے بالخصوص مزدور اور محنت کش طبقے کے مسائل کو اپنی سیاست کا نمایاں محور بنایا۔گوجرانوالہ اور وسطی پنجاب کے صنعتی علاقوں میں ان کی سرگرمیوں کے باعث وہ مزدور حلقوں میں نمایاں ہوئیں اور انہیں”مادرِ مزدور“کے لقب سے بھی یاد کیا جانے لگا۔ان کی سیاسی سرگرمیوں کا تعلق محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ صنعتی مزدوروں کے مسائل،اجرتوں میں کمی،ملازمتوں سے برطرفی اور صنعتی حادثات کے معاملات پر بھی وہ کھل کر آواز اٹھاتی رہیں۔ان کے سیاسی مزاج اور مزدوروں کے حق میں سخت موقف کے باعث پارٹی کے بعض بااثر صنعتی حلقوں سے اختلافات بھی سامنے آتے رہے تاہم وہ اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹیں۔1977 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت ملک کے سیاسی منظرنامے میں شدید کشمکش کے باوجود بیگم نفیسہ خالد نے وسطی پنجاب میں پارٹی کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔اسی سیاسی کردار کے نتیجے میں انہیں خواتین کی مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کا رکن منتخب کیا گیا۔1977 کی اسمبلی اگرچہ طویل عرصہ قائم نہ رہ سکی تاہم پارلیمان میں ان کی آواز منفرد حیثیت رکھتی تھی۔بجٹ،صنعتی معاملات، خواتین کے حقوق اور مختلف قومی امور پر ان کی تقاریر ان کے سیاسی مزاج اور عوامی مسائل پر گرفت کی عکاسی کرتی تھیں۔

قومی اسمبلی کی رکنیت کے دوران ان کے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت،خصوصاً ذوالفقار علی بھٹو اور بعد ازاں بیگم نصرت بھٹو سے قریبی سیاسی روابط قائم رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب سیاسی سرگرمیوں پر شدید پابندیاں عائد ہوئیں تو بیگم نفیسہ خالد نے جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھی اور وسطی پنجاب میں پارٹی کے لیے اپنا کردار جاری رکھا۔ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم اور کٹھن مرحلہ جنرل ضیا الحق کے دورِ اقتدار میں آیا،جب ان پر سیاسی دباو کے ساتھ مختلف مقدمات اور پابندیوں کا سامنا رہا۔ان کے خاندان اور قریبی حلقوں کے مطابق انہیں سیاسی وابستگی تبدیل کرنے کے لیے دباو کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم انہوں نے پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار نہیں کی۔اسی عرصے میں ان کی رہائش گاہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز بھی بنی اور بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ ان کے قریبی روابط مزید نمایاں ہوئے۔مشکل سیاسی حالات کے دوران وہ ایک عرصے تک روپوش رہیں اور زیرِزمین سیاسی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں بعد ازاں انہوں نے پیپلز پارٹی کی تنظیمی سیاست میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں اور گوجرانوالہ ڈویژن کی صدر سمیت پنجاب کی سینئر سطح کی تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔پارٹی کے اندر ان کی شناخت ایک دیرینہ، نظریاتی اور سرگرم کارکن کے طور پر برقرار رہی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں پارٹی کی نئی تنظیمی ساخت کے باعث متعدد پرانے رہنماوں کے کردار میں تبدیلی آئی تاہم بیگم نفیسہ خالد کی بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی سے وابستگی میں فرق نہیں آیا۔1988 میں انہیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ نہ مل سکا تاہم بعد ازاں انہیں پارٹی کی مرکزی فیڈرل کونسل میں شامل کیا گیا۔بیگم نفیسہ خالد کی سیاسی زندگی کا ایک نمایاں وصف ان کی طویل المدتی سیاسی وابستگی تھی۔پارٹی کے اندر مختلف ادوار اور سیاسی تبدیلیوں کے باوجود انہوں نے اپنی جماعت اور اس کی قیادت سے تعلق برقرار رکھا اور آخری عمر تک خود کو پیپلز پارٹی کی کارکن قرار دیتی رہیں۔پارٹی قیادت اور کارکنوں نے ان کی وفات پر کہا ہے کہ بیگم نفیسہ خالد نے جمہوری جدوجہد،عوامی سیاست اور مزدور طبقے کے حقوق کے لیے جو کردار ادا کیا،اسے فراموش نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی رہنماوں نے سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا بھی کی۔سابق رکن قومی اسمبلی کی وفات پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ بیگم نفیسہ خالد کی سیاسی،پارلیمانی اور سماجی خدمات قومی سیاسی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے سید شمعون ہاشمی اور دیگر اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

بیگم نفیسہ خالد کی زندگی کا آخری عرصہ طویل علالت میں گزرا۔عمر کے آخری برسوں میں ان کی صحت شدید متاثر ہوئی تاہم ان سے وابستہ افراد کے مطابق پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان سے ان کی جذباتی وابستگی آخری وقت تک برقرار رہی۔ان کی سیاسی زندگی کو جاننے والے حلقوں کے مطابق بھٹو کا نام ان کی شخصیت سے غیر معمولی جذباتی وابستگی رکھتا تھا اور علالت کے باوجود اس نام کا ذکر ان پر گہرا اثر ڈالتا تھا۔یہی وابستگی ان کی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی زندگی کی نمایاں شناخت سمجھی جاتی رہی۔بیگم نفیسہ خالد کے انتقال کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی ابتدائی تاریخ، مزدور سیاست،جمہوری جدوجہد اور ضیاء آمریت کے خلاف سیاسی مزاحمت کے ایک اہم باب کا اختتام ہو گیا۔ان کی خدمات،سیاسی استقامت اور جماعت سے طویل وابستگی آنے والی نسلوں کے لیے ملکی سیاسی تاریخ کا ایک اہم حوالہ رہیں گی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز