پاکستان میں سیاسی جماعتیں ویسے ہی ہیں جیسے شادی کی تقریب میں بجنے والا تاشہ۔۔۔آواز بہت،شور بہت مگر فیصلہ’ ڈھولک‘ بجانے والے کے ہاتھ میں۔۔۔یہاں پارٹیاں بدلتی ہیں،منشور چھپتے ہیں،جلسے جلوس ہوتے ہیں اور نعروں میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں لیکن’اصل تماشا‘ کہیں اور لگتا ہے اور ہدایت کار کی کرسی ہمیشہ ایک ہی’ جگہ‘ رکھی جاتی ہے۔۔۔اور وہ جگہ کہاں ہے؟ بھلا یہ بھی کوئی بتانے والی بات ہوئی ؟؟پاکستان کی سیاست ایک ایسا سٹیج ہے جہاں کردار بدلتے رہتے ہیں مگر سکرپٹ ہمیشہ ایک ہی’ قلم‘ سے لکھا جاتا ہے۔۔۔کبھی وردی میں،کبھی سوٹ میں،کبھی جمہوریت کے نعروں میں اور کبھی قومی سلامتی کے مقدس الفاظ میں۔۔۔ دکھایا یہ جاتا ہے کہ فیصلے عوام کرتے ہیں مگر اصل فیصلہ وہی کرتا ہے جس کا مرکزی دفتر’پنڈی‘ میں واقع ہے۔۔۔کہا تویہ جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس فوج ہے لیکن دیکھا جائے تو حقیقت اس کے برعکس ہے اور سب ہی یہ بات جانتے ہیں کہ’ فوج کے پاس پاکستان‘ ہے۔۔۔عوام سمجھتے ہیں کہ ان کے ووٹ سے اقتدار کے ایوان روشن ہوتے ہیں،حالانکہ ووٹ کی حیثیت ایک بجلی کے’ بلب‘ جیسی ہے جس کا ’سوئچ ‘کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔۔۔’بلب‘ جلے یا بجھے،یہ اختیار گھر کے مالک کے پاس ہے، کرایہ دار کے پاس نہیں۔۔۔سیاست دان ویسے ہی ہیں جیسے تھیٹر میں لگائے گئے پردے۔۔۔پردے بدلنے سے تماشائی کو لگتا ہے کہ منظر بدل گیا ہے مگر سٹیج وہی رہتا ہے اور ہدایت کار بھی وہی۔۔۔وزیر اعظم بدلتے ہیں،اپوزیشن بدلتی ہے،نعرے بدلتے ہیں لیکن’طاقت کا سرچشمہ‘نہیں بدلتا۔۔۔وہی ہاتھ جو کبھی سلامی لیتے ہیں،وہی ہاتھ دھکے دے کر کرسی بھی چھین لیتے ہیں۔۔۔
ہمارے سیاست دان اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ عوامی مینڈیٹ کے امین ہیں،حقیقت مگر یہ ہے کہ ان کا مینڈیٹ ویسا ہی ہے جیسا سکول کے بچوں کو دیا جانے والا ڈمی ٹیسٹ۔۔۔اصل نمبر تو استاد کے پاس محفوظ ہوتے ہیں۔۔۔عوام کا حال اس’مسافر‘ جیسا ہے جو بس میں سوار ہو،ٹکٹ بھی خریدے،کرایہ بھی دے لیکن ڈرائیور بس کو کسی اور سمت موڑ دے ۔۔۔مسافر کھڑکی سے باہر مناظر تو دیکھ سکتے ہیں مگر منزل کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں۔۔۔ووٹ ڈالنے والے یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے اقتدار دیا ہے مگر اقتدار دینا اور اقتدار چلانا دو الگ کہانیاں ہیں۔۔۔یہاں عوام کو صرف یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اقتدار کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں،اندر بیٹھنے کی اجازت نہیں۔۔۔سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے یوں لڑتی ہیں جیسے بچے ایک ہی کھلونے پر جھگڑ رہے ہوں۔۔۔حقیقت میں وہ سب جانتے ہیں کہ ’کھلونا ‘کسی تیسرے کے ’قبضے‘میں ہے۔۔۔کسی کو اجازت ملے تو تھوڑی دیر کھیلنے کی’ باری‘ آتی ہے،پھر’ کھلونا‘ واپس کر دیا جاتا ہے۔۔۔ایک جماعت نعرہ لگاتی ہے “ووٹ کو عزت دو”، دوسری کہتی ہے “احتساب سب کا ہو گا”، تیسری’ نیا پاکستان‘ دکھانے کا خواب دیتی ہے لیکن جب اقتدار ہاتھ میں آتا ہے تو یہ سب وعدے ایک ہی’ چوکھٹ ‘پر قربان ہو جاتے ہیں۔۔۔جماعتیں محض’ماسک‘ہیں،اصل چہرہ وہی ہے جسے سب جانتے ہیں مگر زبان پر لانا’ خطرہ ‘سمجھتے ہیں۔۔۔
تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھ لیں،سبق ہمیشہ ایک ہی ہے،حکمرانی سیاست دان نہیں کرتے،ان سے حکمرانی کروائی جاتی ہے۔۔۔کبھی ایوب کے سائے میں،کبھی ضیاء کے فرمان کے تحت،کبھی مشرف کے ترقیاتی ماڈل کے نام پر۔جمہوری ادوار میں بھی ہر وزیر اعظم کے کانوں میں ایک انجانی آہٹ ضرور سرگوشی کرتی ہے کہ کرسی تمہاری نہیں،صرف ’ادھار ‘پر دی گئی ہے۔۔۔عدالتیں جب چاہیں فیصلے نازل کر دیں،اسمبلیاں جب چاہیں راتوں رات تحلیل ہو جائیں، لیڈروں کو کٹھ پتلیوں کی طرح دھاگوں سے کھینچا جائے،یہ سب کہانیاں ہم بار بار سنتے ہیں اور پھر بھی حیران ہوتے ہیں۔۔۔خواجہ آصف کا ایک بیان اس پورے منظر نامے کا خلاصہ کر دیتا ہے،جب انہوں نے خود اعتراف کیا کہ پاکستان میں ’ہائبرڈ نظام‘ چل رہا ہے۔یہ وہ سچ ہے جسے سب جانتے ہیں لیکن زبان پر لانا مشکل سمجھتے ہیں۔۔۔ہائبرڈ دراصل وہ نظام ہے جہاں فیصلے کاغذ پر جمہوری نظر آتے ہیں مگر اصل میں ان کی ’جڑیں ‘کہیں اور’ پیوست‘ ہوتی ہیں۔۔۔یہی وہ حقیقت ہے جس نے جنرل راحیل شریف کے دور میں عوام کو “ضربِ عضب” کا قصہ سنایا،جنرل قمر باجوہ کے زمانے میں “باجوہ ڈاکٹرائن” کا چرچا کیا اور آج جنرل عاصم منیر کے دور میں عوام کو نئے بیانیے اور نئے وعدوں کے رنگین خاکے دکھا رہا ہے۔۔۔۔
عوام بھی دلچسپ ہیں۔۔۔وہ جانتے ہیں کہ یہ کھیل جعلی ہے،پھر بھی تالیاں بجاتے ہیں۔۔۔جانتے ہیں کہ وعدے کھوکھلے ہیں،پھر بھی خواب دیکھتے ہیں۔۔۔جانتے ہیں کہ ان کی مرضی محض دکھاوا ہے،پھر بھی انتخابی دن کو ’جشن جمہوریت‘کہتے ہیں۔۔۔۔جیسے تھیٹر کے تماشائی جانتے ہیں کہ اداکار کے آنسو جعلی ہیں مگر پھر بھی ان کے ساتھ رونے لگتے ہیں۔۔۔سب سے دلچسپ وہ روایت ہے جسے نہ ماننے کی گنجائش ہے اور نہ نظر انداز کرنے کی۔۔۔روایت یہ ہے کہ سب کچھ کہنے کے بعد بھی ہمیں فوج کو سلام پیش کرنا پڑتا ہے۔۔۔یہ سلام احترام کا ہے یا مجبوری کا؟ فیصلہ قاری خود کرے۔۔۔۔یہ ایک ایسی رسم ہے جو ہر اختلاف،ہر سوال اور ہر حقیقت کے بعد ادا کرنا ضروری ہے۔۔۔جیسے پرندہ پنجرے میں قید ہو کر دروازے کو چونچ مارے،آواز تو نکلتی ہے مگر پنجرہ ٹوٹتا نہیں ۔۔ لہٰذا میں بھی اپنی تحریر کو وہی الفاظ دے کر ختم کرتا ہوں جو ہر تحریر کے آخر میں لکھنے لازمی ہو جاتے ہیں پاک فوج کو سلام۔۔۔کیونکہ یہی وہ جملہ ہے جو ہر حقیقت کو پردے میں لپیٹ کر بھی مکمل کر دیتا ہے۔۔۔۔باقی سب محض الفاظ کا کھیل ہے اور اصل کھیل وہی ہے جو ہمیشہ کھیلا جاتا رہا ہے۔