نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)صدر نکولس مادورو کی امریکی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد وینزویلا شدید سیاسی اور عسکری بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ایک طرف اقتدار کی منتقلی پر اندرونی کشمکش شروع ہو چکی ہے تو دوسری جانب وزیرِ دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز نے امریکا کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وینزویلا شکست تسلیم نہیں کرے گا اور آخری دم تک مزاحمت جاری رکھے گا، جس سے لاطینی امریکا سمیت پوری دنیا میں ایک نئے تصادم کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کسی صورت ہار نہیں مانے گا اور بالآخر فتح حاصل کرے گا،وینزویلا نہ تو دباو میں آکر مذاکرات کرے گا اور نہ ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹے گا بلکہ ایک متحد قوم کی طرح اپنے مقصد پر قائم رہے گا۔ولادیمیر پیڈرینو لوپیز نے کہا کہ وینزویلا کا تاریخی پس منظر امن،آزادی اور انسانی حقوق کی جدوجہد سے جڑا ہوا ہے اور ملک ہمیشہ اپنی خود مختاری اور عوامی وحدت کے دفاع کے لیے کھڑا رہا ہے،وینزویلا مستقبل میں بھی اپنی سرزمین اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرتا رہے گا۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی کارروائی کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری اور نیویارک منتقلی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکی فوجیوں نے صدارتی محل میں داخل ہو کر صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک پہلے سے تیار بحری جہاز تک منتقل کیا،جو بعد ازاں نیویارک روانہ ہو گیا،جہاں ان کے خلاف امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔امریکی حکام کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات دہشت گردی،کوکین کی سمگلنگ،اسلحہ کی غیر قانونی ترسیل اور امریکا کے خلاف سازش جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔امریکی اٹارنی جنرل کی جانب سے 7 اگست 2025 کو مادورو کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا،جسے اس کارروائی کی طویل منصوبہ بندی کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد سب سے اہم سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ وینزویلا کی قیادت اب کس کے ہاتھ میں آئے گی اور کیا مادورو کے بغیر چاویز ازم اقتدار میں برقرار رہ سکے گا، اگر موجودہ حکومتی ڈھانچہ قائم رہتا ہے تو تین اہم شخصیات اقتدار کی ممکنہ وارث سمجھی جا رہی ہیں،جن میں نائب صدر دلسی رودریگز،وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو اور وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو شامل ہیں۔امریکی کارروائی کے چند گھنٹوں بعد ان تینوں رہنماوں کا سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہونا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ عبوری قیادت یا اقتدار کی منتقلی انہی شخصیات میں سے کسی کے پاس جا سکتی ہے،وزیر داخلہ کابیو اور وزیر دفاع پیڈرینو کو فوج کے اندر نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہے جبکہ دلسی رودریگز کی طاقت زیادہ تر سول اور معاشی شعبوں تک محدود سمجھی جاتی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو میں سپیشل فورسز کے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی بحری جہاز یو ایس ایس آئیو جیما پر منتقل کر کے نیویارک روانہ کیا گیا۔صدر ٹرمپ کے مطابق گرفتاری کا عمل نہایت پیچیدہ تھا،جس کے دوران امریکی فوجیوں نے مضبوط دروازے توڑ کر محفوظ مقامات تک رسائی حاصل کی۔صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے گرفتاری سے ایک ہفتہ قبل مادورو سے رابطہ کیا تھا اور انہیں امریکی عدالتوں کا سامنا کرنے کا کہا تھا۔ان کے مطابق مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں پر امریکی شہریوں کے قتل سمیت سنگین الزامات ہیں،جس کے باعث یہ کارروائی ناگزیر سمجھی گئی۔
صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد اقتدار کی جنگ شروع،وینزویلا کے وزیر دفاع نے شکست کی بجائے آخری دم تک امریکہ سے لڑنے کا دبنگ اعلان کر دیا
6