یروشلم(ایگزو نیوز ڈیسک)اسرائیل نے ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی ادارے ایران میں حالیہ احتجاجی لہر اور اس کے ممکنہ بین الاقوامی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب کو خدشہ ہے کہ ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں امریکا کسی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ کارروائی کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے دفاعی اور انٹیلی جنس اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے مداخلت کے امکان کا عندیہ دیا ہے، جس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق اسی پس منظر میں اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں ایران کی صورتحال، ممکنہ امریکی اقدامات اور خطے کی سیکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔مبصرین کے مطابق ایران میں اندرونی احتجاج، امریکی دباو اور اسرائیلی الرٹ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی غیر یقینی فضا کو جنم دے رہے ہیں، جہاں کسی بھی غیر متوقع قدم کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ایران پر ممکنہ امریکی کارروائی،مشرقِ وسطیٰ تباہی کے دہانے پر،اسرائیل میں ہائی الرٹ،خطے میں کشیدگی
22