لزبن(ایگزو نیوز ڈیسک)پرتگال کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار، 21 ستمبر کو فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا، یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں جنہیں عالمی سطح پر نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے، پرتگال کے اس فیصلے کے بعد کئی دیگر مغربی ممالک، بشمول برطانیہ، کینیڈا اور فرانس بھی اسی راستے پر چلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق پرتگال کی وزارتِ خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ وہ 21 ستمبر کو فلسطین کو با ضابطہ طور پر ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں نے انسانی المیے کو جنم دیا ہے اور عالمی سطح پر سخت مذمت کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے دیرینہ اتحادی بھی اپنے رویے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جولائی ہی میں پرتگال نے عندیہ دیا تھا کہ تنازع میں”انتہائی تشویشناک پیش رفت”اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینی زمین کے انضمام کی بار بار دھمکیوں کے باعث وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے آغاز میں تقریباً 10 ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلان کی تیاری کر رہے ہیں،برطانیہ،کینیڈا اور فرانس سمیت کئی دیگر مغربی ممالک بھی اس اقدام کی حمایت میں آگے بڑھنے والے ہیں۔جمعہ کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ایک مشیر نے کہا کہ انڈورا،آسٹریلیا،بیلجیم،لکسمبرگ،مالٹا اور سان مرینو بھی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔یوں فلسطینی ریاست کی عالمی سطح پر سفارتی حیثیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔فی الحال اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے تقریباً تین چوتھائی فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں اور یہ عمل دو ریاستی حل کی سمت ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے سعودی عرب کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات ختم کر کے اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔مبصرین کے مطابق یہ خطہ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں عالمی طاقتوں کے فیصلے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پیر سے نیویارک میں شروع ہو رہی ہے،جہاں اسرائیلی-فلسطینی تنازع کے حل اور دو ریاستی فارمولے پر خصوصی غور کیا جائے گا۔عالمی سطح پر فلسطین کے حق میں بڑھتی حمایت اسرائیل پر سفارتی دباو بڑھا رہی ہے،جو مستقبل قریب میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔