اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ملکی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خرم دستگیر کے حالیہ بیان نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔انہوں نے نہ صرف مختلف سیاسی جماعتوں کی ممکنہ حکمت عملی پر سوالات اٹھائے بلکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔ان کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیانیہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور آئندہ مہینوں میں سیاسی صف بندی واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خرم دستگیر نےنجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکتوبر تک تمام سیاسی جماعتوں کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی،جس سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے،پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان میں انتخابات میں حصہ لیا،جہاں انتخابی مہم کے دوران گرما گرمی فطری امر ہے تاہم سیاسی رہنماوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانات میں شائستگی اور تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور غیر ذمہ دارانہ الزامات سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے موقع پر بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے دباو اور تنقیدی بیانات سامنے آئے تاہم صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد برقرار رہے گا،آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی حکومت میں شامل ہوتی ہے یا اپوزیشن میں بیٹھتی ہے؟ یہ فیصلہ خود پارٹی کو کرنا ہے تاہم مسلم لیگ ن کو ان کی حکومتی شمولیت پر خوشی ہو گی۔
خرم دستگیر نے آزاد کشمیر کے انتخابی عمل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کا الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے اور اگر کسی جماعت کو دھاندلی کے حوالے سے تحفظات ہیں تو انہیں ٹھوس شواہد کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ الیکشن کمیشن شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کرے گا جبکہ 10 اگست کو انتخابی عمل کا تیسرا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس ناسور کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور رواں سال دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے دیے گئے بیانات بھی زیر بحث ہیں اور اگر ان کے ذہن میں کوئی مخصوص ایجنڈا ہے تو اسے عوام کے سامنے لا کر اس پر کھلی بحث ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وفاقی حکومت کے خلاف ملک گیر سیاسی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی کر چکے ہیں، جس کے بعد سیاسی فضا میں مزید کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔