لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)یومِ آزادی کے موقع پر مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ملک بھر میں آل پارٹیز کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا،جن میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور اقلیتی رہنماوں نے شرکت کرتے ہوئے پاکستان کے قیام کے بنیادی نظریاتی مقاصد کی تکمیل،قومی یکجہتی اور ملکی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔مقررین نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا،اس لیے ملک کو ایک ایسے نظام کی طرف لے جانا ہوگا جو ان کے بقول نظریہ پاکستان اور اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔
ایگزو نیوز کے مطابق مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یومِ آزادی کی چار روزہ تقریبات کا آغاز ملک بھر میں آل پارٹیز کانفرنسز کے انعقاد سے ہو گیا،جہاں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین،اقلیتی برادریوں کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے آزادی کے بنیادی مقاصد کی تکمیل،قومی یکجہتی، نظریہ پاکستان اور ملکی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔لاہور سمیت اسلام آباد،کراچی،قصور،فیصل آباد، شیخوپورہ،ساہیوال،ملتان،چنیوٹ،بہاولپور،گجرات،خانیوال،صوابی،رحیم یار خان،ڈسکہ،چکوال،وہاڑی،ٹوبہ ٹیک سنگھ،مانسہرہ،ایبٹ آباد،ننکانہ صاحب،سکھر،دیپالپور، ڈیرہ اسماعیل خان اور جہلم سمیت مختلف شہروں میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنسز میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں اور اقلیتی نمائندوں نے شرکت کی۔
کانفرنسز سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو،سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدور حافظ طلحہ سعید اور حافظ عبدالروف، جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر،مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی،مسلم یوتھ لیگ کے صدر تابش قیوم،خیبرپختونخوا کے صدر رانا محمد اشفاق،پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور،سندھ کے صدر فیصل ندیم اور دیگر رہنماوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بنیادی مقاصد کی تکمیل کے لیے قوم کو متحد ہوکر آگے بڑھنا ہو گا۔مقررین نے کہا کہ ان کے نزدیک پاکستان کی آزادی کا بنیادی نظریاتی پیغام”لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ہے اور ملک کو درپیش غربت،مہنگائی،بے روزگاری اور دیگر معاشی و سماجی مسائل کے حل کے لیے ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو ان کے بقول اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔
لاہور میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا کہ پاکستان جن مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا،ان کی تکمیل کے لیے ملک میں بہتر نظام لانا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ نظریہ پاکستان ہی پاکستان کی بقا کی بنیاد ہے اور قوم کو ظاہری اختلافات،لسانی تقسیم اور طبقاتی تفریق سے بالاتر ہوکر ایک قوم کے طور پر متحد ہونا ہو گا۔انہوں نے موجودہ سیاسی و انتظامی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے نظام میں بنیادی بہتری اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرکے ملک کو ایک ایسے نظام کی طرف لے جانا ہو گا جو عوام کو انصاف،معاشی استحکام اور بنیادی سہولیات فراہم کرسکے۔
لاہور اور قصور میں ہونے والی اے پی سیز میں جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ،حافظ عبدالغفار روپڑی،محمد یعقوب شیخ،علامہ زبیر احمد ظہیر،حمید الحسن،عمران بھٹی اور دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے حالیہ علاقائی و دفاعی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معرکہ بنیان مرصوص کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع کے حوالے سے اہم پیش رفت کی ہے اور ملک کی دفاعی قوت اور عالمی سطح پر حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے قومی اتحاد،خود انحصاری اور ایک واضح قومی سمت ناگزیر ہے۔

فیصل آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،حاجی اکرم انصاری،ڈاکٹر نثار جٹ،خواجہ اسلام،محبوب الزمان، ارشد جٹ،مفتی ضیاء مدنی اور دیگر نے خطاب کیا۔سیف اللہ قصوری نے کہا کہ ایک مستحکم پاکستان نہ صرف ملک کے عوام بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔انہوں نے پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ساہیوال میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس سے مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید،قاری اظہار،حذیفہ بخاری،ممتاز بھٹی اور دیگر نے خطاب کیا جبکہ اقلیتی برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے سکھ رہنما سردار نیدان سنگھ اور مسیحی رہنما دلبر جانی بھی شریک ہوئے۔گجرات میں منعقدہ اے پی سی میں مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی،سید الطاف الرحمن شاہ،مرزا کاشف بیگ،پیر سید سعید احمد شاہ گجراتی،پیر سید افضال خاموش،سید فخر عباس اور سکھ رہنما گلندر سنگھ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ”انٹر فیتھ ہارمونی اور آزادی سیمینار“ بھی منعقد کیا گیا،جس میں اقلیتی برادریوں کے نمائندوں اور شہریوں نے شرکت کی۔شرکا نے بین المذاہب ہم آہنگی،باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔ملتان میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس سے مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالروف،رانا عبدالرحمان،اجمل خان چانڈیہ اور دیگر نے خطاب کیا جبکہ ننکانہ صاحب میں منعقدہ اے پی سی میں محمد سرور چوہدری،میاں عابد حسین،انجینئر حارث ڈار،رانا محمد ارشد،رائے شاہ جہان بھٹی،چیئرمین پنجابی سکھ سنگت پاکستان سردار گوپال سنگھ چاولہ اور مسیحی رہنما عرفاق سردار سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
کراچی میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یومِ آزادی مہم کے سلسلے میں ضلع وسطی میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،جس کی صدارت ضلع وسطی کے جنرل سیکرٹری عثمان رشید نے کی۔کانفرنس میں مختلف سیاسی،سماجی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندگان اور معززین علاقہ نے شرکت کی۔مرکزی مسلم لیگ کے مطابق ملک بھر میں منعقد کی جانے والی ان آل پارٹیز کانفرنسز کا مقصد یومِ آزادی کے موقع پر قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا،مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور پاکستان کے مستقبل،قومی یکجہتی اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت اجاگر کرنا ہے۔مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو سیاسی،معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنانے کے لیے قومی سطح پر اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہو گا،آزادی کی حقیقی روح اسی وقت اجاگر ہوگی جب ملک کے تمام شہریوں کو بلاامتیاز بنیادی حقوق،انصاف، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں گے۔