اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کو آزاد جموں و کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے پارٹی کا امیدوار نامزد کردیا ہے تاہم ان کی نامزدگی کے معاملے پر آزاد کشمیر کی ن لیگی صفوں میں اختلافات اور تحفظات کی اطلاعات نے نئی حکومت سازی کے عمل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں افتخار گیلانی کے نام پر اتفاق کیا گیا جبکہ شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔افتخار گیلانی حالیہ آزاد کشمیر انتخابات میں مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 29 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے تاہم وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد کے مقابلے میں کامیاب نہ ہوسکے۔بعد ازاں مسلم لیگ ن نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا،جہاں انہوں نے کامیابی حاصل کرکے دوبارہ قانون ساز اسمبلی میں جگہ بنالی۔ٹیکنو کریٹ نشست پر افتخار گیلانی کا مقابلہ پیپلزپارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ذوالفقار علی سے ہوا تھا۔مخصوص نشستوں کے انتخاب کے بعد وہ نئی قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے،جس کے فوراً بعد ان کا نام وزارتِ عظمیٰ کے لیے سامنے آگیا۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر افتخار گیلانی کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب پارٹی کے اندر اس منصب کے لیے پہلے شاہ غلام قادر اور دیگر اہم رہنماوں کے نام زیرِ غور رہے ہیں۔حالیہ اطلاعات کے مطابق پارٹی قیادت کی مشاورت میں افتخار گیلانی اور شاہ غلام قادر دونوں کے نام زیر بحث رہے تاہم بعد میں افتخار گیلانی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق افتخار گیلانی کی نامزدگی پر شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کی جانب سے تحفظات سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن کے اندر مزید مشاورت کی ضرورت محسوس کی گئی۔بعض اطلاعات کے مطابق اختلافات کے باعث آزاد کشمیر اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کا اجلاس بھی ایک روز آگے بڑھا کر 28 اگست کو مقرر کیا گیا ہے۔شاہ غلام قادر کو مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کا اہم اور تجربہ کار رہنما سمجھا جاتا ہے اور وہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدواروں میں شامل رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق افتخار گیلانی کے نام پر تحفظات رکھنے والے بعض رہنماوں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ گیلانی عام انتخابات میں اپنی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے اور بعد میں مخصوص ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں پہنچے جبکہ براہِ راست منتخب ارکان میں سے بھی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار موجود ہیں۔یہ اعتراض پارٹی کے اندر جاری بحث کا اہم نکتہ بن گیا ہے۔
شاہ غلام قادر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کی گئی ایک حالیہ پوسٹ کو بھی سیاسی حلقوں میں اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔انہوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیے کا حوالہ دیتے ہوئے آزاد کشمیر کے عوام کے عزت و وقار کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا،جسے بعض حلقے پارٹی فیصلے سے متعلق ان کے تحفظات کا بالواسطہ اظہار قرار دے رہے ہیں تاہم ان کی پوسٹ میں افتخار گیلانی کا براہِ راست نام نہیں لیا گیا۔دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے افتخار گیلانی کے نام کو آگے بڑھانے کے بعد پارٹی کے اندر مختلف دھڑوں کو ساتھ رکھنے اور نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اہم رہنماوں کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو وزیراعظم کے انتخاب کے مرحلے پر سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو حکومت سازی کے لیے واضح برتری حاصل ہے۔حالیہ مخصوص نشستوں اور دیگر حمایت کے بعد پارٹی کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے اور اس نے سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لیے بھی اپنے امیدوار آگے بڑھائے ہیں۔افتخار گیلانی کی نامزدگی کے بعد اب نظریں 28 اگست کو ہونے والے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس پر مرکوز ہیں،جہاں وزیراعظم کا حتمی انتخاب ارکانِ اسمبلی کریں گے۔اس لیے مسلم لیگ ن کی مرکزی نامزدگی کے باوجود افتخار گیلانی کا وزیراعظم بننا اسمبلی کے آئینی انتخاب سے مشروط ہے۔حکومت سازی کے وسیع تر فارمولے کے حوالے سے بھی مسلم لیگ ن میں مشاورت جاری ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ ریاست کے مختلف ڈویڑنز کو اہم آئینی اور حکومتی عہدوں میں نمائندگی کس طرح دی جائے گی۔موجودہ صورتحال میں میرپور،مظفرآباد اور پونچھ ڈویژنز کے درمیان عہدوں کی تقسیم بھی نئی حکومت کے سیاسی توازن میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔یوں بیرسٹر افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی نے بظاہر مسلم لیگ ن کے اندر قیادت کے انتخاب کا معاملہ طے کردیا ہے لیکن پارٹی کے بعض اہم رہنماوں کے تحفظات نے اس فیصلے کو سیاسی طور پر غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔اب 28 اگست کا اجلاس نہ صرف نئے وزیراعظم کے انتخاب بلکہ مسلم لیگ ن کے اندرونی اتحاد اور آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی سیاسی سمت کا بھی امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔