اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد کشمیر کے انتخابی منظرنامے میں مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے دھاندلی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو باضابطہ جوابی خطوط ارسال کر دیے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل کا موقف ہے کہ متعلقہ حلقوں میں انتخابی عمل ضابطہ اخلاق کے مطابق،پرامن اور شفاف انداز میں مکمل ہوا جبکہ مخالف جماعت کے اعتراضات بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کے ہیں۔حلقہ ایل اے اکتیس کے حوالے سے جمع کرائے گئے جواب میں مسلم لیگ ن نے واضح کیا کہ امیدوار راجہ ثاقب مجید اور پارٹی کارکنان نے تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔پارٹی کے مطابق پولنگ کا مجموعی عمل منظم اور شفاف رہا جبکہ پیپلز پارٹی کے الزامات کا مقصد انتخابی عمل کو متنازع بنانا ہے۔اسی طرح حلقہ ایل اے چالیس ویلی ون سے متعلق بھی مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کی شکایات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امیدوار محمد نعیم خان، پولنگ ایجنٹس اور کارکنان نے مکمل طور پر ضابطہ اخلاق کی پاسداری کی۔پارٹی کے مطابق انتظامی امور سے متعلق لگائے گئے الزامات غیر مصدقہ ہیں اور ان کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔الیکشن سیل نے اپنے موقف میں زور دیا ہے کہ تمام شکایات کا فیصلہ صرف قابلِ تصدیق شواہد اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں کیا جائے اور بغیر ثبوت کسی بھی امیدوار یا کارکن کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سیاسی بنیادوں پر دائر اعتراضات سے عوام کے انتخابی عمل پر اعتماد کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں پرامن،شفاف اور قانون کے مطابق پولنگ کے انعقاد کو یقینی بنائے۔پارٹی نے الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ تمام فیصلے میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق کیے جائیں گے تاکہ عوامی مینڈیٹ کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔