Home » آزاد کشمیر میں ن لیگ نے اپنی اکثریت واپس چھین لی،فتح ن لیگ کیلئے جشن نہیں امتحان،مریم نواز کا حکومت بنتے ہی کام شروع کرنے کا اعلان

آزاد کشمیر میں ن لیگ نے اپنی اکثریت واپس چھین لی،فتح ن لیگ کیلئے جشن نہیں امتحان،مریم نواز کا حکومت بنتے ہی کام شروع کرنے کا اعلان

by ahmedportugal
17 views
A+A-
Reset

مری(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد پارٹی نے اسے محض انتخابی فتح کے بجائے ایک بڑی عوامی ذمہ داری قرار دیا ہے۔مری میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں اپنی سابقہ اکثریت دوبارہ حاصل کرلی ہے تاہم اب جشن کا وقت نہیں بلکہ عوامی خدمت اور کارکردگی کا امتحان شروع ہوگیا ہے۔انہوں نے نئی حکومت کو فوری طور پر عملی اقدامات شروع کرنے،ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرنے کا پیغام دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق مری میں مسلم لیگ ن کے پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو مینڈیٹ دیا تاہم انتخابی کامیابی کے بعد اب پارٹی کا اصل امتحان شروع ہوگیا ہے،آزاد کشمیر کے عوام نے مشکل حالات کے باوجود ترقی کا راستہ منتخب کیا،انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن کے اجتماعات میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے اور ان عناصر کو شکست ہوئی جنہیں وہ شرپسندی اور انتشار کی سیاست سے منسلک قرار دیتی ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی پر پارٹی رہنماوں، امیدواروں اور کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی انتخابی محنت کو سراہا۔انہوں نے امیر مقام،رانا ثناءاللہ،طارق فضل چوہدری اور دیگر رہنماوں کی انتخابی سرگرمیوں میں کاوشوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔

مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں اپنی سابقہ سیاسی پوزیشن دوبارہ حاصل کرلی ہے اور 2021 کے انتخابی نتائج کے تناظر میں موجودہ کامیابی پارٹی کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے،اب انتخابی فتح پر اکتفا کرنے کے بجائے عوامی خدمت اور عملی کارکردگی کے ذریعے مینڈیٹ کو مضبوط بنانا ہو گا۔انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں حکومت بننے کے بعد کسی قسم کی تاخیر کی گنجائش نہیں ہوگی،مسلم لیگ ن کی قیادت وہاں پروٹوکول،تقریبات یا ضیافتوں سے لطف اندوز ہونے نہیں بلکہ عوامی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کام آگے بڑھانے کے لیے جائے گی۔مریم نواز نے کہا کہ مختلف مشکلات اور سیاسی دباو کے باوجود مسلم لیگ ن کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ عوام ترقیاتی ایجنڈے کو اہمیت دے رہے ہیں،پارٹی کو اب عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہو گی۔

اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ پنجاب نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی سیاسی اور ترقیاتی میراث کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نواز شریف کا نام نمایاں ہے اور نواز شریف جدید پاکستان کی تشکیل کے اہم معماروں میں شامل ہیں۔مریم نواز نے ان سیاسی حلقوں کو بھی جواب دیا جو مسلم لیگ ن کو کمزور یا زوال پذیر قرار دیتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج نے ان دعووں کو غلط ثابت کردیا اور پارٹی نے اپنی سیاسی قوت ایک بار پھر منوا لی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو کامیابی پر مبارکباد دی،اس لیے انہیں توقع تھی کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کریں گی تاہم آزاد کشمیر میں انتخابی نتائج کے بعد پیپلزپارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سامنے آنا افسوسناک ہے،جہاں پیپلزپارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے وہاں انتخابات پر اعتراض نہیں کیا گیا جبکہ دوسرے حلقوں کے نتائج پر سوالات اٹھائے گئے،سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج کے حوالے سے ایک ہی معیار اختیار کرنا چاہیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے سندھ کی صورتحال کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبے میں طویل عرصے سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے تاہم سڑکوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور صفائی کی صورتحال پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔انہوں نے سندھ میں شہری سہولیات کے حوالے سے حکومت سندھ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔مریم نواز نے اپنی جماعت کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کو گزشتہ برسوں کے دوران متعدد سیاسی مشکلات،رکاوٹوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا،2021 میں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے 17 اور پاکستان تحریک انصاف کے 3 نشستیں حاصل کرنے کے بعد جو سیاسی صورت حال تبدیل ہوئی تھی،موجودہ انتخابات نے اس کا نقشہ ایک بار پھر بدل دیا ہے،حالیہ نتائج کے ذریعے مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں اپنی سابقہ اکثریتی حیثیت دوبارہ حاصل کرلی ہے تاہم پارٹی کے لیے اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب انتخابی مینڈیٹ کو عوامی فلاح،ترقیاتی منصوبوں،بہتر گورننس اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تبدیل کیا جائے۔

مریم نواز نے پارٹی رہنماوں اور کارکنوں پر زور دیا کہ انتخابی سرگرمیوں کے اختتام کے بعد اب عوامی خدمت کو مرکز بنایا جائے،آزاد کشمیر میں حکومت کی کامیابی کا معیار سیاسی بیانات نہیں بلکہ عملی کارکردگی،ترقیاتی رفتار اور عام شہری کی زندگی میں بہتری ہوگی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں عوام کی توقعات پوری کرنے،ترقیاتی عمل تیز کرنے اور بنیادی سہولیات بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی جبکہ انتخابی کامیابی کو ایک نئی سیاسی و انتظامی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز