میر پور(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے نتائج نے سیاسی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کی ہے، جہاں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔متعدد اہم حلقوں میں کامیابی کے ساتھ ن لیگ نے اپنی پوزیشن مستحکم کی جبکہ پیپلز پارٹی کو کئی مضبوط نشستوں پر غیر متوقع شکستوں کا سامنا کرنا پڑا،جس سے خطے کی سیاسی صورتحال میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے نتائج نے سیاسی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کی ہے، جہاں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 13 میں سے 12 حلقوں میں سے 8 نشستیں اپنے نام کر لیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی 4 نشستوں پر کامیاب رہی۔ ایک حلقہ ایل اے 6 سماہنی میں ووٹ جلائے جانے کے واقعے کے باعث حتمی نتیجہ تاحال جاری نہیں کیا جا سکا تاہم وہاں بھی ن لیگ کے امیدوار کو نمایاں برتری حاصل ہے۔
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کی جانب سے ابتدائی طور پر چند حلقوں کے سرکاری نتائج جاری کیے گئے جبکہ دیگر حلقوں کے غیر حتمی نتائج نے کئی بڑے سیاسی ناموں کی شکست کو نمایاں کیا۔پیپلزپارٹی کے صدر چودھری محمد یاسین کو اپنے آبائی حلقہ چڑہوئی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا،اگرچہ وہ کوٹلی سٹی کی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔اسی طرح کوٹلی نکیال سے جاوید اقبال بڈھانوی اور کھوئیرٹہ سے ولید انقلابی بھی شکست سے دوچار ہوئے جبکہ سابق وزیراعظم چودھری انوارالحق بھی میدان ہار گئے۔حلقہ ایل اے 1 ڈڈیال میں مسلم لیگ ن کے چودھری اظہر صادق نے واضح برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی جبکہ ایل اے 2 میرپور چکسواری اسلام گڑھ میں پیپلزپارٹی کے قاسم مجید کامیاب قرار پائے۔ایل اے 3 میرپور سٹی میں پیپلزپارٹی کے یاسر سلطان نے نشست اپنے نام کی جبکہ ایل اے 4 کھڑی شریف اور ایل اے 5 بھمبر میں ن لیگ نے کامیابی سمیٹی۔ایل اے 7 میں سابق وزیراعظم چودھری انوارالحق کو مسلم لیگ ن کے چودھری طارق فاروق کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا،جو انتخابی نتائج کا ایک بڑا اپ سیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح ایل اے 9 کوٹلی نکیال میں بھی غیر متوقع نتیجہ سامنے آیا جہاں ن لیگ کے عمیر نعیم نے پیپلزپارٹی کے مضبوط امیدوار کو شکست دی۔کچھ حلقوں میں انتخابی عمل کے دوران بدامنی اور بے ضابطگیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں،جن میں ایل اے 6 سماہنی میں ووٹ جلائے جانے کا واقعہ اور ایل اے 9 میں تصادم کے دوران پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کی ہلاکت شامل ہے۔علاوہ ازیں،ایل اے 10 میں دو پریزائیڈنگ افسران کی گرفتاری کے بعد نتائج پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر)غلام مصطفی مغل نے انتخابی عمل کو مجموعی طور پر آزادانہ اور شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولنگ پرامن ماحول میں مکمل ہوئی اور عوام نے بھرپور انداز میں حق رائے دہی استعمال کیا۔ان کے مطابق امن و امان کے قیام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار موثر رہا جبکہ سماہنی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔ابتدائی نتائج کے مطابق میرپور ڈویژن میں ن لیگ کی برتری نے سیاسی توازن کو تبدیل کر دیا ہے جبکہ بڑے سیاسی رہنماوں کی شکست نے آئندہ مرحلوں کے لیے نئی حکمت عملیوں اور ممکنہ اتحادوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔