اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہو گئے ہیں،جہاں ان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اعلیٰ سطح ملاقات متوقع ہے۔اس دورے کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ علاقائی و عالمی صورتحال کے تناظر میں اہم فیصلوں اور پالیسی ہم آہنگی کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اعلیٰ سطح سرکاری وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہو گئے ہیں،جہاں وہ سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ملاقات کریں گے۔یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر مشاورت کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،وزیر دفاع خواجہ آصف،وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں،جو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے اہم کردار ادا کریں گے۔دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے،اقتصادی و دفاعی تعاون کو مستحکم کرنے اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنما علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہم آہنگی بڑھانے اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے پر بھی غور کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے لہٰذا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اس موقع پر دونوں ممالک کے مابین سفارتی روابط کو مزید فعال بنانے اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی گفتگو کی جائے گی۔وزیراعظم اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران عمرہ کی ادائیگی کریں گے اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ پر حاضری دے کر عقیدت کا اظہار بھی کریں گے۔ اس دورے کو نہ صرف سفارتی بلکہ مذہبی اور عوامی سطح پر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر محیط اعتماد،بھائی چارے اور قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے جبکہ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون،اقتصادی روابط اور علاقائی سطح پر ہم آہنگی کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔