Home » سیاسی برف پگھلنے لگی؟وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن سے بات چیت کی منظوری دے دی،سپیکر ایاز صادق کو باضابطہ گرین سگنل

سیاسی برف پگھلنے لگی؟وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن سے بات چیت کی منظوری دے دی،سپیکر ایاز صادق کو باضابطہ گرین سگنل

by ahmedportugal
6 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سیاسی ڈیڈلاک میں ممکنہ نرمی کے آثار سامنے آ گئے ہیں، جب وزیر اعظم شہباز شریف نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کی باضابطہ منظوری دیتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو مذاکرات کے آغاز کے لیے گرین سگنل دے دیا۔حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ہے تاہم بات چیت کا عمل صرف تحریک انصاف کے منتخب پارلیمانی نمائندوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے اور وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے اپوزیشن سے بات چیت کے لیے اپنی حکمت عملی بھی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو اپوزیشن سے مذاکرات شروع کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی درخواست پر حکومتی وفد مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم حکومت نے واضح فیصلہ کیا ہے کہ مذاکرات غیر منتخب نمائندوں کے بجائے صرف تحریک انصاف کے منتخب پارلیمانی ارکان سے ہی کیے جائیں گے۔حکومت کا موقف ہے کہ پارلیمان کے اندر سیاسی مسائل کا حل پارلیمانی قیادت کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے۔ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اپوزیشن کو متعدد بار مذاکرات کی پیشکش کے باوجود اب تک تحریک انصاف کی صفوں میں خاموشی برقرار ہے۔ اپوزیشن قیادت اس وقت محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف بنانے پر اصرار کر رہی ہے اور اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے قبل کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں دکھائی دیتی۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ آخری ملاقات بھی محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف نامزد کرنے کے معاملے پر ہوئی تھی۔ سپیکر ایاز صادق نے تحریک انصاف کو اپنے چیمبر میں آ کر بات چیت کرنے کی دعوت دی ہے تاہم اپوزیشن کی جانب سے تاحال کسی رہنما نے سپیکر چیمبر سے با ضابطہ رابطہ نہیں کیا۔سپیکر آفس ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی بدستور برقرار ہے اور جیسے ہی اپوزیشن مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے گی،سپیکر فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیں گے تا کہ بات چیت کا باضابطہ آغاز کیا جا سکے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس بات پر واضح ہیں کہ سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں تاہم حکومت کسی غیر منتخب کردار کو مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنائے گی۔

اس حوالے سے حکومت کے اتحادی بھی مذاکرات کے حق میں ہیں اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کو ضروری قرار دے رہے ہیں۔دوسری طرف وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے اب تک کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہو سکا، حکومت کے اتحادی واضح طور پر مذاکرات کے حامی ہیں اور ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے بات چیت ضروری ہے، اگر تحریک انصاف سپیکر کے چیمبر میں آ کر سنجیدگی دکھائے تو مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف کے تقرر کا معاملہ آئینی طور پر سپیکر قومی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو مذاکرات کے ذریعے حل نہ ہو سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ تحریک انصاف کو کنفیوژن سے نکل کر مذاکرات کے لیے واضح موقف اختیار کرنا ہوگا،تحریک انصاف اس وقت اندرونی اختلافات اور کنفیوژن کا شکار ہے، پارٹی کے مختلف دھڑے الگ الگ بیانات دے رہے ہیں، جس کے باعث مذاکراتی عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز