اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے توانائی کے بحران سے نمٹنے اور کفایت شعاری کے اقدامات کو موثر بنانے کے لیے ملک بھر میں کاروباری اوقات میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مارکیٹس،شاپنگ مالز اور روزمرہ استعمال کی اشیاءکی دکانیں رات 8 بجے بند کی جائیں گی جبکہ بیکریاں،ریسٹورنٹس اور دیگر کھانے پینے کی دکانیں رات 10 بجے بند ہوں گی،اس اقدام کا مقصد توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ شہری سہولت اور معاشی توازن قائم رکھنا بتایا گیا ہے اور اس فیصلے کا اطلاق 7 اپریل سے ہو گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے توانائی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت ملک بھر میں کاروباری اوقات میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جس کا اطلاق 7 اپریل سے ہو گا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات،توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے نفاذ پر اہم جائزہ اجلاس میں سینیٹر اسحاق ڈار،احد خان چیمہ سمیت تمام متعلقہ اعلیٰ حکومتی افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر کی مارکیٹس،شاپنگ مالز اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی دکانیں رات 8 بجے بند کی جائیں گی جبکہ بیکریاں،ریسٹورنٹ، تندور اور کھانے پینے کی دیگر دکانیں رات 10 بجے بند ہوں گی۔شادی ہالز،مارکیز اور دیگر کمرشل جگہیں جن میں شادی بیاہ کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں،رات 10 بجے کے بعد بند رہیں گی اور نجی پراپرٹیز میں شادی کی تقریبات بھی اس وقت کے بعد منعقد کرنے پر پابندی ہو گی،اجلاس میں میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹس رات 9 بجے تک کھلی رکھنے کی استثناء دی گئی ہے۔سندھ میں کاروباری اوقات کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور وفاقی حکومت امید کرتی ہے کہ سندھ حکومت بھی جلد اس فیصلے میں شامل ہو جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گلگت شہر اور مظفر آباد شہر میں انٹرا سٹی پبلک ٹرانسپورٹ ایک ماہ کے لیے مفت فراہم کی جائے گی اور تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔اس اقدام کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا اور توانائی بچانے کے قومی اقدامات کو آسان بنانا ہے۔اجلاس میں وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اقدامات قومی اہمیت کے حامل ہیں اور تمام فریقین کے اتفاق رائے سے کیے گئے ہیں۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وفاقی سبسڈی کے نفاذ پر بھی بریفنگ لی،جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں دی گئی سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے اور اب تک ایک لاکھ ٹرانزیکشن مکمل ہو چکی ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام سے عام شہریوں تک ریلیف کی فراہمی آسان اور شفاف ہوگی۔یہ اقدام ملک میں توانائی کی بچت، کفایت شعاری اور شہری سہولت کو متوازن کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے،جس کے ذریعے معاشی دباو کم کرنے اور توانائی کے غیر ضروری استعمال کو محدود کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔