Home » کاروباری برادری کو ریلیف،وزیر اعظم کا ایف بی آر کو اصلاحات تیز کرنے اور ٹیکس چوروں کے خلاف کریک ڈاون کا حکم

کاروباری برادری کو ریلیف،وزیر اعظم کا ایف بی آر کو اصلاحات تیز کرنے اور ٹیکس چوروں کے خلاف کریک ڈاون کا حکم

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ٹیکس نظام میں بہتری اور محصولات میں اضافے کے لیے اصلاحاتی عمل تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ایف بی آر کو ٹیکس چوری میں ملوث عناصر کے خلاف موثر کریک ڈاون کا حکم دے دیا ہے جبکہ کاروباری برادری کے مسائل کے فوری حل اور سہولت کاری کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ معیشت کو دستاویزی بنانے،شفافیت کے فروغ اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کاروباری برادری کے مسائل کے فوری حل اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں محصولات میں اضافے،ادارہ جاتی بہتری اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مختلف شعبوں میں ٹیکس استعداد کا درست تعین کرنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر جامع طریقہ کار تیار کیا جائے تاکہ محصولات میں پائیدار اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے پاور سیکٹر کے ساتھ اشتراک کے ذریعے غیر رسمی معیشت اور ٹیکس چوری میں ملوث عناصر کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چینی کے شعبے میں پہلی بار پیداواری اعداد و شمار اور ایف بی آر ڈیٹا میں ہم آہنگی ٹریکنگ نظام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔وزیراعظم نے ٹیکس دہندگان کو ملکی معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹیکس دینے والے افراد اور کاروباروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرتی رہے گی۔انہوں نے ایف بی آر حکام کو ہدایت دی کہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود رہ کر تاجروں کے مسائل سنیں اور فوری حل یقینی بنائیں۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ چینی،سیمنٹ،تمباکو،ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر فعال ہے جبکہ مزید پانچ شعبوں میں اس کا نفاذ آخری مراحل میں ہے،جن سے 700 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس استعداد حاصل ہونے کی توقع ہے۔مزید بتایا گیا کہ نو پیداواری شعبوں میں ٹریکنگ نظام کے ذریعے 560 ارب روپے کی اضافی ٹیکس وصولی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیداواری شعبوں میں ڈیجیٹل نگرانی کا نظام رواں سال کے اختتام تک مکمل طور پر نافذ کیا جائے جبکہ ٹیکسٹائل،مشروبات،سٹیل،پولٹری، خوردنی تیل و گھی اور ٹائرز کے شعبوں میں بھی دسمبر تک ٹریکنگ سسٹم فعال بنایا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر میں تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہوں گے جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کو قومی سطح پر سراہا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاوسز میں بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کو فوری یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شفافیت بڑھانے کے لیے 957 تھرڈ پارٹی آڈیٹرز تعینات کیے جا چکے ہیں جبکہ فیس لیس کسٹمز نظام کے تحت 280 گڈز ایویلیوایٹرز کی بھرتی جاری ہے،جس سے نہ صرف کلیئرنس کا وقت کم ہوا بلکہ ریونیو میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مزید برآں،ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم کرنے کے لیے کیس سکرونٹی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جبکہ متبادل تنازعاتی حل فورمز کے ذریعے بڑی تعداد میں مقدمات تیزی سے نمٹائے جا رہے ہیں،جس سے اربوں روپے کی وصولی ممکن ہوئی ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء،گورنر سٹیٹ بینک اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹیکس اصلاحات کے تمام اقدامات کو مقررہ وقت میں مکمل کر کے معیشت کو مستحکم بنانے میں موثر کردار ادا کیا جائے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز