اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اہم ملاقات کی جس میں خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماوں نے کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور تحمل کا مظاہرہ جاری رکھیں تاکہ پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان وزیراعظم ہاوس میں ہونے والی اہم ملاقات میں خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماوں نے پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں آنے والی نمایاں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا۔ملاقات کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ فریقین جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور تحمل کا مظاہرہ جاری رکھیں تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا جبکہ دونوں قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان فریقین کے درمیان پرامن اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے دیرپا حل کے لیے ہر ممکن سہولت اور مکمل تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امن عمل میں شامل تمام فریقین کے مثبت طرزِ عمل اور عزم کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے آنے والے وفود کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا اور اعلیٰ سطح کی میزبانی کو یقینی بنایا جائے گا۔دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کاوشوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ پیش رفت کو برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔یاد رہے کہ پاکستان کی موثر سفارتکاری کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح وفود کے درمیان اہم مذاکرات ہفتے کے روز اسلام آباد میں متوقع ہیں۔امریکا کی جانب سے وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ایران کی جانب سے بھی اعلیٰ سطح کا وفد شرکت کرے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی بھی عکاسی کرتی ہے،جو عالمی سطح پر امن کے فروغ میں ایک کلیدی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔