اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے نائب چیئرمین تسائی دافنگ کی قیادت میں اعلیٰ سطح چینی وفد نے اہم ملاقات کی،جس میں پاک چین تعلقات کو مزید وسعت دینے،سی پیک کے اگلے مرحلے اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کو پاکستان اور چین کے درمیان 75 سالہ دیرینہ دوستی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے،جہاں دونوں ممالک نے سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ ترقی کے لیے اہم فیصلوں پر پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے نائب چیئرمین تسائی دافنگ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح چینی وفد نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور مشترکہ تعاون کے مختلف پہلووں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی وفد پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی پچھترویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر ہے،جسے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ملاقات میں قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ،وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی شریک تھیں،جس سے اس ملاقات کی اہمیت اور سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے چینی وفد کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی، آزمودہ اور سٹریٹجک شراکت داری کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ پچھتر برسوں کے دوران دونوں ممالک نے باہمی اعتماد،احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک مثالی دوستی قائم کی ہے،جو ہر آزمائش میں مضبوط ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے چینی قیادت اور عوام کو اس اہم سنگ میل پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین کے بنیادی قومی مفادات اور خودمختاری کے حوالے سے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی حیثیت کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اگلے مرحلے میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی،صنعت اور معدنیات کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کی اقتصادی بنیادوں کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔انہوں نے اس حوالے سے اپنے آئندہ دورہ چین کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع سامنے آئیں گے۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے چین کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن،ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔چینی وفد کے سربراہ تسائی دافنگ نے وزیراعظم کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ چینی قیادت پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان کی خودمختاری،ترقی اور علاقائی امن کے لیے اس کے کردار کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان آہنی بھائی چارہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کا مظہر ہے بلکہ یہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتا ہے اور مستقبل میں یہ شراکت داری مزید وسعت اختیار کرے گی۔