Home » پارلیمنٹ کمزور، سیکیورٹی سٹیٹ مضبوط،2025 میں پاکستان ہائبرڈ نظام کی گرفت میں،پلڈاٹ رپورٹ نے گذرے سال کا کچا چٹھا کھول دیا

پارلیمنٹ کمزور، سیکیورٹی سٹیٹ مضبوط،2025 میں پاکستان ہائبرڈ نظام کی گرفت میں،پلڈاٹ رپورٹ نے گذرے سال کا کچا چٹھا کھول دیا

by ahmedportugal
4 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان میں جمہوریت کے دعووں اور عملی حقائق کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی(پلڈاٹ)کی تازہ رپورٹ نے بے نقاب کر دیا ہے۔ سال 2025 کے اختتام پر جاری ہونے والی اس چشم کشا جائزہ رپورٹ کے مطابق جمہوری ادارے بظاہر موجود رہے مگر عملاً کمزور ہوتے چلے گئے جبکہ سیکیورٹی سٹیٹ اور ہائبرڈ طرزِ حکمرانی مزید مضبوط ہو گیا۔رپورٹ نے پارلیمنٹ کی کمزوری،سویلین بالادستی کے محدود کردار،عدلیہ کی آئینی تبدیلیوں اور اظہارِ رائے پر بڑھتی قدغنوں کو نمایاں کرتے ہوئے گذرے سال کا ایسا کچا چٹھا کھولا ہے جس نے سیاسی اور جمہوری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پلڈاٹ نے سال 2025 کے اختتام پر جمہوریت کے معیار سے متعلق اپنی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے،جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگرچہ ملک میں جمہوری ادارے بظاہر برقرار رہے تاہم عملی طور پر وہ مسلسل کمزور ہوتے چلے گئے اور پاکستان میں ہائبرڈ طرزِ حکمرانی کو مزید استحکام حاصل ہوا۔رپورٹ کے مطابق پاک بھارت تصادم کے بعد ریاستی امور میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا جبکہ سویلین حکومت نے بھی ہائبرڈ نظامِ حکمرانی کی مکمل حمایت کی۔علاقائی کشیدگی اور داخلی شورش کے باعث پاکستان عملی طور پر ایک سیکیورٹی سٹیٹ کی جانب بڑھتا دکھائی دیا،جہاں جمہوری ادارے سیکیورٹی ترجیحات کے محدود دائرے میں کام کرنے پر مجبور رہے۔

پلڈاٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 27ویں آئینی ترمیم محدود بحث کے ساتھ منظور کی گئی،جس سے پارلیمنٹ کے کردار اور خود مختاری پر سوالات اٹھے۔رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے طویل عرصے تک خالی رہے،جس سے پارلیمانی نگرانی کا نظام شدید متاثر ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ انتظامی اختیارات رسمی طور پر سویلین حکومت کے پاس رہے تاہم عملی طور پر یہ اختیارات محدود ہوتے گئے۔سال 2025 میں عدلیہ کو بھی بڑی آئینی اور ساختی تبدیلیوں کا سامنا رہا جبکہ فوجی عدالتوں کے تسلسل اور نئی آئینی عدالت کے قیام نے شفاف اور آزاد انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے۔پلڈاٹ کے مطابق قومی سطح کے فیصلوں میں سکیورٹی اداروں کا کردار مزید نمایاں ہو گیا۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ ضمنی انتخابات تو منعقد ہوئے تاہم کم ووٹر ٹرن آوٹ نے عوامی اعتماد میں کمی کو ظاہر کیا۔سیاسی جماعتیں بدستور خاندانی کنٹرول اور کمزور داخلی جمہوریت کا شکار رہیں جبکہ مقامی حکومتوں کا عدم وجود نچلی سطح پر جمہوریت کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہوا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پیکا قانون میں ترامیم کے بعد میڈیا کی آزادی مزید محدود ہو گئی اور سال 2025 کے دوران اختلافِ رائے کو اکثر قومی مفاد کے منافی تصور کیا جاتا رہا،جس سے جمہوری اقدار اور اظہارِ رائے کی آزادی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز