Home » پمز سانحہ،مصطفی کمال نے ذمہ داری قبول کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا

پمز سانحہ،مصطفی کمال نے ذمہ داری قبول کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا

by ahmedportugal
31 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے اندوہناک واقعے پر خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس سانحے میں کسی کی ذمہ داری بنتی ہے تو احتساب کا آغاز ان سے ہونا چاہیے۔
ایگزو نیوز کے مطابق نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ انہوں نے خود وزیراعظم اور واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کے سامنے خود کو پیش کیا ہے، کسی نے انہیں احتساب کے لیے پیش ہونے کا نہیں کہا بلکہ وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے خود تحقیقاتی عمل کا حصہ بننے کے لیے سامنے آئے ہیں۔مصطفی کمال نے واضح کیا کہ وزارت صحت کی مجموعی انتظامی ذمہ داری ان کے پاس ہے اور اگر تحقیقات میں ان کی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت سامنے آتی ہے تو وہ اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزارت کی مجموعی ذمہ داری اور ہسپتال کی ہر تکنیکی خرابی کی براہ راست ذمہ داری میں فرق ہے۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق ملک کے کسی بھی ہسپتال کی وائرنگ، بجلی کے نظام یا فائر سیفٹی کے ہر جزو کا ذاتی طور پر معائنہ کرنا وزیر صحت کی براہ راست ذمہ داری نہیں ہوتی، کیونکہ اس نوعیت کے معاملات کے لیے متعلقہ انتظامی، تکنیکی اور طبی حکام موجود ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ کس سطح پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور کہاں غفلت یا کوتاہی ہوئی۔مصطفی کمال نے کہا کہ انہیں اپنی وزارت یا عہدے کی کوئی فکر نہیں، ان کے لیے انسانی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سانحے کو محض کسی ایک افسر یا سیکریٹری کو عہدے سے ہٹانے تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس میں نومولود بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا مقصد صرف کسی ایک شخص کو قربانی کا بکرا بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ واقعے کے تمام محرکات، حفاظتی انتظامات، انتظامی فیصلوں اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لے کر ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے،اگر کسی بھی سطح پر ان کی اپنی ذمہ داری بنتی ہے تو وہ احتساب سے گریز نہیں کریں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحقیقاتی عمل کو شفاف انداز میں آگے بڑھنا چاہیے تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آسکیں اور مستقبل میں ایسے کسی سانحے کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جاسکیں۔پمز نرسری میں پیش آنے والے سانحے نے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی،ایمرجنسی رسپانس اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے پہلے ہی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔وفاقی وزیر صحت کی جانب سے خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کی تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹی واقعے کے محرکات اور ممکنہ ذمہ داریوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز