اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے واضح کیا ہے کہ پمز نرسری آتشزدگی کے ذمہ داروں کے خلاف مجرمانہ غفلت ثابت ہونے کی صورت میں کریمنل کیسز درج کیے جائیں گے اور کسی بھی ذمہ دار کو قانون کے کٹہرے سے باہر نہیں رکھا جائے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے گزشتہ رات سے فعال ہے اور 48 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی،آئندہ 24 گھنٹوں میں واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ بھی سامنے آنے کی توقع ہے۔مصطفی کمال نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی واقعے سے متعلق تمام دستیاب شواہد اکٹھے کررہی ہے،جن میں موقع پر موجود مادی شواہد کے ساتھ ڈیجیٹل ریکارڈ بھی شامل ہے،تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہوجائے گا کہ آتشزدگی کس طرح شروع ہوئی؟آگ کے پھیلنے کے عوامل کیا تھے اور اس المناک واقعے میں کس کی ذمہ داری بنتی ہے؟۔وفاقی وزیر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی ہی واحد مجاز فورم ہے،اس کے علاوہ کسی نئی تحقیقاتی کمیٹی کی ضرورت نہیں اور وزیراعظم کی مقرر کردہ کمیٹی کی رپورٹ کو ہی حتمی بنیاد بنایا جائے گا،تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں گے،اگر تحقیقات میں کسی فرد یا افسر کی مجرمانہ غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہوں گے۔مصطفی کمال نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ پمز نرسری سانحے میں جو بھی ذمہ دار پایا گیا اسے کسی صورت نہیں بخشا جائے گا،حکومت کا مقصد محض کسی افسر یا ملازم کو عہدے سے ہٹانا نہیں بلکہ اصل ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے اپنے استعفے کے مطالبے پر پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے سیاسی ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی معاملات پر ان کے موقف سے پیپلز پارٹی کو سخت اختلاف ہے اور اسی پس منظر میں ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے،اگر وہ وزارت سے مستعفی ہوکر کراچی واپس چلے گئے تو پیپلز پارٹی کے لیے صورتحال مزید مشکل ہوجائے گی۔انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جب وہ کراچی میں موجود ہوتے تھے تو صوبے میں انتظامی مسائل کی نشاندہی کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ان معاملات پر بات کرتے رہیں گے۔وفاقی وزیر نے پیپلز پارٹی کی جانب سے ان پر تنقید کے جواب میں کراچی کے گل پلازہ سانحے کا حوالہ بھی دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے اور سوال یہ ہے کہ اس سانحے کے بعد سندھ کے وزیراعلیٰ یا کراچی کے میئر نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ گل پلازہ واقعے کے دوران متاثرہ افراد کے اہل خانہ کئی روز تک اپنے پیاروں کے لیے مدد کی دہائیاں دیتے رہے جبکہ جائے وقوعہ کے قریب ہی کراچی کے میئر کا دفتر موجود تھا۔
مصطفی کمال نے سندھ حکومت کی طویل حکمرانی کے دوران دیگر انتظامی مسائل اور حادثات پر بھی سوالات اٹھائے۔اپنے خلاف استعفے کے مطالبے سے متعلق وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وزارت صحت کی موجودہ ذمہ داری کا جائزہ لینے کے ساتھ پمز ہسپتال کے انتظامی معاملات کی ماضی کی صورتحال بھی سامنے لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پمز میں ہونے والی مختلف تعیناتیاں کیا ان کے دور میں کی گئی تھیں اور ہسپتال کے انتظامی فیصلوں میں ماضی کی ذمہ داریوں کا تعین کیوں نہ کیا جائے۔مصطفی کمال نے کہا کہ چند روز میں یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ وزارت صحت کی جانب سے پمز سانحے کے حوالے سے کیا اقدامات کیے گئے؟ وزیر اعظم نے بعض معاملات کو فی الحال عوام کے سامنے لانے سے روک رکھا ہے تاہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ 26 اگست کو اسلام آباد کے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا،جس میں پندرہ نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔واقعے کے بعد آگ لگنے کی وجہ سے متعلق مختلف ابتدائی بیانات سامنے آئے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے ابتدائی طور پر ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں دھماکے کو آگ لگنے کی وجہ قرار دیا تھا جبکہ پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں نرسری کے اندر چنگاری سے آگ بھڑکنے اور آکسیجن کی موجودگی کے باعث اس کے تیزی سے پھیلنے کا ذکر کیا گیا تاہم حتمی طور پر آگ کے آغاز اور سانحے کے ذمہ داروں کا تعین وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ہوسکے گا۔اس صورتحال میں تحقیقاتی کمیٹی کی آئندہ رپورٹ کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے،کیونکہ اس سے نہ صرف آتشزدگی کی اصل وجہ سامنے آنے کی توقع ہے بلکہ یہ بھی طے ہوگا کہ حفاظتی انتظامات،انتظامی فیصلوں یا کسی فرد کی غفلت نے اس المناک سانحے میں کیا کردار ادا کیا۔