اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی میٹرنٹی اینڈ چائلڈ ہیلتھ (ایم سی ایچ) وارڈ کی نرسری میں علی الصبح لگنے والی ہولناک آگ نے 14 نومولود بچوں کی جان لے لی، جبکہ دو بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ اندوہناک واقعے کے بعد اسپتال کے حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی رسپانس اور ممکنہ غفلت کے حوالے سے کئی سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق آتشزدگی ایم سی ایچ وارڈ کی عمارت کی تیسری منزل پر قائم نرسری میں صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ہوئی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ اے سی کے کمپریسر میں خرابی یا دھماکے کے باعث لگی تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ نرسری میں اس وقت متعدد نومولود بچے موجود تھے،جن میں سے 14 آگ کی شدت کے باعث جانبر نہ ہوسکے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔امدادی کارروائی میں فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسز نے حصہ لیا جبکہ آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق خواتین سمیت 19 افراد کو متاثرہ حصے سے بحفاظت نکالا گیا۔واقعے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ابتدائی رپورٹ میں ہسپتال کے فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات سے متعلق اہم خامیوں کی نشاندہی سامنے آئی۔رپورٹ کے مطابق فائر فائٹنگ عملہ اطلاع ملنے کے تقریباً چھ منٹ بعد موقع پر پہنچ گیا تاہم متاثرہ مقام پر پہنچنے کے بعد ایمرجنسی راستوں کے باہر سے بند ہونے،بعض مقامات پر رکاوٹیں موجود ہونے اور فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات کے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے جیسے مسائل سامنے آئے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سیکیورٹی عملے کی جانب سے ابتدائی رسپانس کے دوران رکاوٹ پیش آئی جبکہ جائے حادثہ پر ہجوم کو موثر انداز میں منظم کرنے کے انتظامات بھی ناکافی دکھائی دیے۔ان مشاہدات نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ اگر ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں ایمرجنسی راستے ہی مکمل طور پر قابل استعمال نہ ہوں تو کسی بھی بڑے سانحے کی صورت میں مریضوں اور طبی عملے کے بروقت انخلا کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب جاں بحق بچوں کے والدین غم سے نڈھال ہیں۔بعض والدین نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حادثے کے وقت نرسری میں مطلوبہ طبی عملہ موجود نہیں تھا اور بعض اہم راستے بھی بند تھے۔ایک عینی شاہد خاتون نے دعویٰ کیا کہ آگ کے دوران بچوں کو بچانے کے لیے شدید افراتفری پیدا ہوگئی اور اہل خانہ اپنی آنکھوں کے سامنے بچوں کو آگ کی لپیٹ میں دیکھتے رہے۔والدین نے جاں بحق بچوں کی شناخت کے حوالے سے بھی ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تمام بچوں کی شناخت مکمل طور پر یقینی بنائی جا سکے۔دستاویزات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بہادر نامی شہری کے جڑواں نومولود بچے بھی شامل ہیں،جس نے ایک ہی سانحے میں اپنے دونوں بچوں کو کھو دیا۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حادثے کے وقت ہسپتال کا عملہ موجود تھا اور نرسری میں دو ڈاکٹرز اور چار نرسز ڈیوٹی پر تھیں،ایک ڈاکٹر نے ایک بچے کو بچانے میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں فائر سیفٹی سسٹم موجود ہے جبکہ آکسیجن سلنڈرز بھی وارڈ میں موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات میں جو بھی شخص قصوروار پایا گیا،اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر اے سی بلاسٹ کو آگ لگنے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ نے شدت اختیار کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد ہی یہ طے ہوسکے گا کہ واقعہ محض تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا یا اس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی بھی شامل تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کی ہدایت کردی۔وزیراعظم نے کہا کہ واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے،ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے جاں بحق بچوں کے والدین اور اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی 14 نومولود بچوں کی المناک اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی پر زور دیا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔واقعے کی تحقیقات کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں آٹھ رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل،ایس پی سٹی،اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن،ڈی جی سی ڈی اے،آئیسکو اور پمز کے متعلقہ افسران شامل ہیں۔ کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرکے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی کہ ضلعی انتظامیہ اور پمز کی جانب سے پہلے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹیوں کے حوالے سے صورتحال تبدیل ہوگئی اور وزیراعظم کی ہدایت پر مرکزی سطح پر تحقیقات کا عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔اب اصل امتحان یہ ہے کہ تحقیقات صرف آگ لگنے کی تکنیکی وجہ تک محدود رہتی ہیں یا ان تمام انتظامی اور حفاظتی خامیوں کا بھی تعین کیا جاتا ہے جنہوں نے اس سانحے کو مزید سنگین بنایا۔
چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے بھی پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ادھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صوبے کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں میں فائر فائٹنگ آلات کی دستیابی،فعالیت اور حفاظتی نظام کی جانچ یقینی بنائی جائے۔پمز کا یہ سانحہ محض 14 نومولود بچوں کی جانوں کے ضیاع کا واقعہ نہیں بلکہ ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی،ایمرجنسی انخلا، عملے کی تربیت،آلات کی فعالیت اور انتظامی نگرانی کے نظام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے۔نومولود بچے خود کو خطرے سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،اس لیے نرسری اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں حفاظتی انتظامات کی معمولی سی کوتاہی بھی ناقابل تلافی المیے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اب عوام اور بالخصوص جاں بحق بچوں کے والدین کی نظریں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں کہ آیا اس سانحے کی ذمہ داری صرف ایک تکنیکی خرابی پر ڈال کر معاملہ ختم کردیا جائے گا یا ایمرجنسی راستوں،فائر سیفٹی انتظامات،عملے کی موجودگی،رسپانس میکانزم اور انتظامی نگرانی سمیت ہر پہلو کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین بھی کیا جائے گا۔