Home » پمز نرسری آتشزدگی کی تحقیقات پر سوالات،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے استعفے کا مطالبہ

پمز نرسری آتشزدگی کی تحقیقات پر سوالات،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے استعفے کا مطالبہ

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق قائمہ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مہیش کمار کی قیادت میں ارکان نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور آتشزدگی سے متاثرہ نرسری کا تفصیلی معائنہ کیا۔ کمیٹی ارکان نے جائے وقوعہ پر موجود انتظامات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ہسپتال انتظامیہ سے حادثے کے محرکات،حفاظتی اقدامات اور امدادی کارروائیوں سے متعلق سوالات بھی کیے۔دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ آتشزدگی کے واقعے کی وجہ کے حوالے سے اب تک مختلف اور متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں،وفاقی وزیر صحت کی جانب سے پرانے ایئرکنڈیشنر سے سپارک پیدا ہونے کی بات کی گئی جبکہ بعض دیگر ذرائع کی جانب سے آکسیجن سلنڈر پھٹنے کا امکان ظاہر کیا گیا،جس سے یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ آخر آگ اصل میں کس وجہ سے لگی۔انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نرسری میں نصب ایئرکنڈیشنر مبینہ طور پر طویل عرصے سے درست طور پر کام نہیں کررہا تھا تاہم صرف ابتدائی بیانات کی بنیاد پر کسی ایک وجہ کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا، اس لیے واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ڈاکٹر مہیش کمار کے مطابق قائمہ کمیٹی تجربہ کار ڈاکٹرز پر مشتمل ایک الگ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے رہی ہے جو واقعے کے تمام پہلووں کا جائزہ لے گی اور حقائق سامنے لانے کی کوشش کرے گی۔کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ آتشزدگی سے قبل نرسری میں فائر سیفٹی،بجلی کے نظام،آکسیجن سپلائی اور دیگر حفاظتی انتظامات کی کیا صورتحال تھی۔

قائمہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے بھی ہسپتال کے دورے کے دوران سامنے آنے والے مختلف بیانات پر تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور عملے کی جانب سے واقعے کے بارے میں مختلف موقف سننے کو ملے ہیں،اس لیے ذمہ داری کا تعین کیے بغیر معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے وفاقی وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سے استعفے کا مطالبہ کیا۔قائمہ کمیٹی کے سربراہ نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی انتظامیہ سے طلب کی گئی اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا ویڈیو ریکارڈنگ سے آگ کے آغاز کی درست جگہ اور وجہ کا تعین ممکن ہے تاہم دستیاب فوٹیج میں فی الحال ایسا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے حتمی طور پر ثابت ہو کہ آگ ایئرکنڈیشنر سے ہی شروع ہوئی تھی۔معائنے کے دوران نرسری کی عمارت سے متعلق ایک اہم معاملہ بھی سامنے آیا۔

ڈاکٹر مہیش کمار نے بتایا کہ موجودہ نرسری کا حصہ تقریباً 1990 میں تعمیر کیا گیا تھا جبکہ ہسپتال میں نسبتاً نیا بلاک بھی موجود ہے۔ان کے مطابق قائمہ کمیٹی میں شامل ماہر ڈاکٹرز کی رائے ہے کہ انتہائی نگہداشت کے محتاج نومولود بچوں کے لیے جدید اور نسبتاً نئے بلاک کا استعمال زیادہ موزوں ہوسکتا تھا تاہم نئے بلاک کو نرسری کے بجائے گائنی وارڈ کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ نومولود بچوں کو پرانی عمارت میں رکھا گیا۔ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ کمیٹی اس فیصلے کا بھی جائزہ لے گی کہ نرسری کے لیے نئے بلاک کے بجائے پرانی عمارت کا انتخاب کیوں کیا گیا اور کیا یہ فیصلہ طبی اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق تھا۔اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ نرسری میں موجود فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کا نظام نومولود بچوں جیسے انتہائی حساس مریضوں کے لیے مطلوبہ معیار پر پورا اترتا تھا یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر 24 گھنٹے میں تشکیل دی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ ابتدائی تحقیقات میں کن عوامل کی نشاندہی ہوئی اور ذمہ داری کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا۔

قائمہ کمیٹی صحت کے سربراہ کے مطابق کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس جلد طلب کیا جائے گا،جس میں پمز انتظامیہ،وزارت صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو طلب کرکے واقعے سے متعلق تفصیلی سوالات کیے جائیں گے۔انہوں نے تمام اراکین، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکان سے بھی اجلاس میں شرکت کی اپیل کی تاکہ اس اہم معاملے پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر حقائق سامنے لائے جاسکیں۔پمز نرسری میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ہسپتال کے حفاظتی انتظامات،نرسری کے لیے عمارت کے انتخاب،فائر سیفٹی نظام اور آتشزدگی کی اصل وجہ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔قائمہ کمیٹی کی آئندہ کارروائی میں یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ سانحے میں انتظامی یا تکنیکی غفلت کا کوئی کردار تھا یا نہیں اور اگر خامیاں ثابت ہوئیں تو ان کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز