اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پمز ہسپتال میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباو کو کم کرنے اور شہریوں کو ہسپتال آئے بغیر طبی مشاورت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے ٹیلی میڈیسن سینٹر کے قیام کا فیصلہ کرلیا، جبکہ ہسپتال کے حفاظتی انتظامات،کولنگ سسٹم اور نئی ایمرجنسی کو فعال بنانے کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کی پیش رفت،حفاظتی انتظامات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس کے دوران پمز میں مریضوں اور طبی عملے کو گرمی سے بچانے اور ہسپتال کے مختلف شعبوں میں بہتر ماحول یقینی بنانے کے لیے ایچ وی اے سی نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پمز کے ساتھ چلڈرن ہسپتال میں بھی موثر کولنگ سسٹم کی فراہمی کے لیے ایچ وی اے سی نظام کو یقینی بنایا جائے۔پمز میں مریضوں کے غیر معمولی رش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہسپتال پر بڑھتے ہوئے دباو کو کم کرنے کے لیے ٹیلی میڈیسن سینٹر شروع کیا جائے گا،اس سہولت کے ذریعے شہریوں کو طبی مشاورت کے متبادل ذرائع میسر آئیں گے اور معمول کے طبی معاملات میں ہسپتال آنے والے مریضوں کی تعداد کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے وزیراعظم ہیلتھ کارڈ سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ شہریوں کو دستیاب مفت علاج کی سہولیات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے 15 پینل ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے تحت مفت علاج کی سہولت دستیاب ہے جبکہ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہری بھی اس سہولت سے مستفید ہوسکتے ہیں۔مصطفی کمال نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے دستیاب علاج کی سہولت سے متعلق موثر اور جامع آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ مستحق شہری سرکاری سہولت سے لاعلمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہیں۔دورے کے دوران وفاقی وزیر صحت نے پمز کی نیو ایمرجنسی کے مختلف شعبوں کا بھی معائنہ کیا اور وہاں موجود انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نئی ایمرجنسی کو مزید تاخیر کے بغیر ہنگامی بنیادوں پر آپریشنل کیا جائے تاکہ مریضوں کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں اور موجودہ ایمرجنسی پر دباو کم ہو۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پمز ہسپتال حال ہی میں ایک انتہائی المناک سانحے کے باعث شدید تنقید اور سوالات کی زد میں رہا۔گزشتہ ہفتے پمز کے نیونیٹل وارڈ کی نرسری میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے،جس کے بعد ہسپتال میں حفاظتی انتظامات،فائر سیفٹی اور انتظامی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔سانحے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی نے اپنی ابتدائی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی۔عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت آٹھ افراد کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔رپورٹ کی سفارشات اور نتائج کی روشنی میں وزیراعظم نے ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف فوری فوجداری کارروائی کی منظوری دیتے ہوئے ان آٹھ افراد کی معطلی کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔
وفاقی وزیر صحت کے حالیہ دورہ پمز میں فائر سیفٹی آڈٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات کا جائزہ اسی تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی نظام کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر موثر بنایا جائے۔پمز میں ٹیلی میڈیسن سینٹر کے قیام، نئی ایمرجنسی کو فعال کرنے، کولنگ سسٹم بہتر بنانے اور فائر سیفٹی اقدامات کے جائزے کو ہسپتال کی مجموعی سروس ڈلیوری بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات، محفوظ ماحول اور بروقت علاج کی فراہمی کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے جائیں گے جبکہ ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور عوامی سہولت کے معاملات پر بھی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔