دبئی(ایگزو نیوز ڈیسک)دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز دورانِ سفر اچانک سنگین ہنگامی صورتحال سے دوچار ہوگئی،جب طیارے کے کاک پٹ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان مبینہ طور پر شدید جسمانی جھگڑا شروع ہوگیا۔صورتحال اس وقت انتہائی تشویشناک ہوگئی جب طیارے سے پہلے ہنگامی حالت کا سگنل جاری کیا گیا اور اس کے چند ہی منٹ بعد ایسا کوڈ بھی بھیجا گیا جو طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ممکنہ ہائی جیکنگ کی نشاندہی کرتا ہے۔واقعے کے بعد طیارے کا رخ تبدیل کرکے اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 بدھ کے روز دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پرواز کے دوران طیارے نے پہلے ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص کوڈ 7700 جاری کیا،جس کے بعد چند منٹ کے اندر ہی کوڈ 7500 بھی فعال ہوگیا۔ہوابازی کے نظام میں 7700 عمومی ہنگامی صورتحال جبکہ 7500 طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ممکنہ ہائی جیکنگ کی اطلاع دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔کوڈ 7500 کے سامنے آنے کے بعد صورتحال نے انتہائی حساس رخ اختیار کرلیا،کیونکہ پرواز تل ابیب کی جانب بڑھ رہی تھی۔اسرائیلی حکام نے ممکنہ ہائی جیکنگ کے خدشے کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات کیے اور اطلاعات کے مطابق اسرائیلی جنگی طیارے بھی فضا میں بھیجے گئے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت اعلیٰ حکام نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی مشاورت بھی کی تاہم بعد ازاں سامنے آنے والی ابتدائی معلومات نے معاملے کو ایک مختلف رخ دے دیا۔اسرائیلی حکام اور متعدد ذرائع کے مطابق طیارے میں ہائی جیکنگ نہیں ہوئی بلکہ کاک پٹ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان شدید جسمانی جھگڑا ہوا تھا،جس کے دوران ہنگامی سگنل فعال ہوئے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں پائلٹ زخمی ہوئے اور انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق جھگڑے کے دوران صورتحال اس قدر سنگین ہوگئی کہ طیارے کے عملے اور بعض مسافروں کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک پائلٹ کے پاس چھری بھی موجود تھی اور جھگڑے کے دوران دوسرے پائلٹ کو چوٹ لگی تاہم واقعے کی تمام تفصیلات ابھی تک باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی ہیں اور متعلقہ اداروں کی تحقیقات جاری ہیں۔پرواز کی نگرانی کرنے والے نظام کے مطابق ہنگامی سگنل کے بعد طیارے نے اپنا مقررہ راستہ ترک کیا اور سعودی عرب کی سمت رخ کرلیا۔پرواز نے بعد میں سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں واقع تبوک کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی،جہاں طیارے میں موجود تمام مسافروں اور عملے کو بحفاظت اتار لیا گیا۔
فلائی دبئی نے بھی تصدیق کی ہے کہ طیارہ تبوک میں محفوظ طریقے سے اتر گیا اور تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔طیارے میں مسافروں کی تعداد کے حوالے سے ابتدائی اطلاعات میں مختلف اعداد سامنے آئے تاہم فلائی دبئی سے متعلق رپورٹوں میں مسافروں کی مجموعی تعداد 174 بتائی گئی ہے،جن میں 27 بچے بھی شامل تھے۔اس طرح طیارے میں موجود افراد کی تعداد ابتدائی طور پر بتائی جانے والی 150 سے زائد تعداد سے بھی زیادہ تھی۔واقعے کے دوران طیارے کی بلندی میں بھی اچانک اور غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق طیارہ مختصر وقت میں ہزاروں فٹ نیچے آیا،جس نے صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کیا۔بعد ازاں طیارے نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور سعودی عرب میں محفوظ لینڈنگ کی۔
اس واقعے نے اس لیے بھی غیر معمولی توجہ حاصل کی کہ طیارہ متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کی جانب جا رہا تھا اور اس نے دورانِ پرواز ہائی جیکنگ سے متعلق بین الاقوامی ہنگامی کوڈ جاری کیا۔اس سگنل کے نتیجے میں اسرائیلی حکام کو ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرنا پڑے تاہم بعد کی ابتدائی تحقیقات میں ہائی جیکنگ کے بجائے پائلٹوں کے درمیان مبینہ پرتشدد جھگڑے کو واقعے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔فلائی دبئی نے واقعے کی مکمل تفصیلات بیان کرنے کے بجائے تصدیق کی ہے کہ پرواز کو دورانِ سفر ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑا،طیارہ بحفاظت تبوک پہنچا اور تمام مسافر محفوظ ہیں۔کمپنی کے مطابق متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور مزید مصدقہ معلومات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کاک پٹ میں جھگڑا کس وجہ سے شروع ہوا،ہنگامی اور ہائی جیکنگ کے سگنل کس مرحلے پر اور کس طرح فعال ہوئے،طیارے کی بلندی میں اچانک کمی کیوں ہوئی اور پرواز کے عملے نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کون سے اقدامات کیے۔واقعے کی حتمی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گا۔