اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی ایئرلائن کے فلیٹ میں فنی مسائل ایک بار پھر سر اٹھانے لگے۔ پی آئی اے کا ائیر بس ساختہ طیارہ مسلسل دوسرے روز سنگین تکنیکی خرابی کے باعث گراونڈ کر دیا گیا،جس سے پاکستان سے العین جانے والی پرواز پی کے 143 کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی۔
ایگزو نیوز کے مطابق پرواز کو صبح چار بجے اسلام آباد سے روانہ ہونا تھا تاہم فلائٹ کنٹرول کمپیوٹر میں اچانک خرابی کے باعث طیارہ بروقت پرواز نہ کر سکا، ایئرپورٹ پر گھنٹوں انتظار کے بعد مسافروں نے انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ایئرلائن کی ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی طیارہ، جس کا رجسٹریشن نمبر AP-BLS ہے، گزشتہ روز بھی اسی نوعیت کی فنی خرابی کا شکار ہوا تھا۔ دبئی جانے والی پرواز پی کے 233 کو فلائٹ کنٹرول کمپیوٹر میں نقص کے باعث واپس آنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں درجنوں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ذرائع کا انکشاف ہے کہ خراب کمپیوٹر کو باقاعدہ مرمت کے لیے کراچی نہیں بھیجا گیا، بلکہ کراچی میں کھڑے ایک اور طیارے سے نیا کمپیوٹر نکال کر اسلام آباد روانہ کیا گیا تاکہ پرواز کسی طرح بحال کی جا سکے۔قومی ایئرلائن کے اندرونی ذرائع کے مطابق متاثرہ پرزے کی مکمل جانچ کے بعد ہی طیارے کو دوبارہ سروس میں شامل کیا جائے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے پاس اس وقت اسپیئر پارٹس کی شدید قلت ہے اور مینٹیننس پلاننگ میں سنگین خامیاں سامنے آ رہی ہیں، جن کے باعث تکنیکی خرابیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ایوی ایشن ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف مسافروں کے اعتماد کے لیے خطرناک ہے بلکہ قومی ایئرلائن کی ساکھ پر بھی گہرا منفی اثر ڈال رہی ہے۔ بار بار کی فنی خرابیوں نے پی آئی اے کے مینٹیننس سسٹم اور فلیٹ منیجمنٹ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پی آئی اے کا طیارہ ایک بار پھر بیٹھ گیا،ائیر بس طیارہ،مسلسل دوسرے دن فنی خرابی کا شکار،مسافروں کا ہنگامہ،قومی ائیر لائن کی تکنیکی ناکامیاں بڑھنے لگیں
4