اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان ہاکی فیڈریشن(پی ایچ ایف) نے قومی کھیل میں نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ڈوپنگ کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ کر دی ہے۔اس فیصلے کے بعد قومی کیمپوں میں ڈوپنگ قوانین کی کسی بھی خلاف ورزی کو ناقابلِ برداشت قرار دیا گیا ہے اور واضح ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ایسے تمام کھلاڑی جو ڈوپنگ ٹیسٹ میں ملوث پائے جائیں گے انہیں فوری طور پر کیمپ سے معطل کر دیا جائے گا۔فیڈریشن کے اس اقدام کو کھیل کے معیار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی کھیل کو ڈوپنگ جیسے ناسور سے پاک کرنے کے لیے سخت اور غیر لچکدار حکمت عملی اپناتے ہوئے زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے،جس کے تحت کسی بھی سطح پر خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔اس فیصلے کے مطابق ڈوپنگ ٹیسٹ میں ملوث یا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کو فوری طور پر قومی کیمپ سے معطل کر دیا جائے گا اور ان کے خلاف مزید تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔فیڈریشن کی جانب سے جاری نئی ہدایات کے تحت لاہور اور اسلام آباد میں جاری قومی ہاکی کیمپوں کے لیے سخت ضابطہ اخلاق متعارف کرا دیا گیا ہے،جس میں کھلاڑیوں کو عالمی اینٹی ڈوپنگ قوانین کی مکمل پاسداری کا تحریری حلف نامہ جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی جونیئر اور سینئر دونوں سطح کے کیمپوں میں کھلاڑیوں کے کسی بھی وقت اچانک ڈوپ ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پالیسی کے تحت نہ صرف ڈوپنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی بلکہ ٹیسٹ سے انکار یا بچنے کی کوشش کو بھی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا،جس پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔فیڈریشن نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیمپ کمانڈنٹس اور کوچز کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی مکمل نگرانی کریں اور ڈوپ ٹیسٹنگ کے عمل میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے دیں۔مزید برآں کھلاڑیوں میں آگاہی بڑھانے اور ممنوعہ ادویات کے استعمال سے بچانے کے لیے باقاعدہ ہفتہ وار تعلیمی سیشنز منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں ماہرین کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کے نقصانات، قوانین اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کریں گے۔اس اقدام کو قومی ہاکی میں شفافیت،نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔