Home » پٹرول 384،ڈیزل 415 روپے سے بھی مہنگا،حکومت نے عوام پر پٹرول بم پھر گرا دیا

پٹرول 384،ڈیزل 415 روپے سے بھی مہنگا،حکومت نے عوام پر پٹرول بم پھر گرا دیا

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا،پٹرول 4 روپے 10 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا،جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 384 روپے 34 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔
وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اوگرا نے وفاقی حکومت کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مقررہ طریقہ کار کے تحت نئی قیمتوں کا تعین کیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں حالیہ اضافے کا اطلاق 16 ستمبر 2026 سے ہوگا اور نئی قیمتیں ایک دن کیلئے نافذ رہیں گی۔حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 380 روپے 24 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 384 روپے 34 پیسے ہوگئی ہے،یوں پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا۔اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 409 روپے 42 پیسے سے بڑھا کر 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے،جس کے نتیجے میں ڈیزل 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوامی حلقوں میں تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے گھریلو بجٹ شدید متاثر کر رکھا ہے اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے عام آدمی کی مشکلات بڑھیں گی۔شہریوں کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے آمدورفت کے اخراجات میں اضافہ ہو گا جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور کم آمدنی والے طبقے کیلئے موجودہ حالات میں گھریلو بجٹ برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کیلئے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،جس کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباو بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔فراہم کردہ مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 106 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا جبکہ برینٹ خام تیل 108.8 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی،سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور سپلائی روٹس کو لاحق خطرات اور عالمی سطح پر خام تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کو اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3 ڈالر اضافے کے بعد 108.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 104.68 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا،جو تقریباً چار ماہ کی بلند ترین سطح قرار دی گئی۔مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اس اضافے نے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کیلئے توانائی کے اخراجات سے متعلق دباو میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں،کرنسی کی قدر اور دیگر متعلقہ عوامل کے اثرات سے متاثر ہوتی ہیں،چنانچہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو کا براہ راست اثر مقامی قیمتوں کے تعین پر پڑتا ہے۔حالیہ فیصلے کے بعد ایک طرف عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دباو برقرار ہے تو دوسری جانب مقامی سطح پر مہنگے ایندھن کے باعث شہریوں کے سفری اور گھریلو اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے نفاذ کے ساتھ ہی عوامی سطح پر مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے تشویش بھی مزید نمایاں ہوگئی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز