اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں سے عوام پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کو کم کرنے کیلئے حکومت نے موٹرسائیکل،رکشہ،چنگچی اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم پر عملی کام شروع کر دیا ہے جبکہ ابتدائی طور پر تین ماہ کیلئے ہر موٹرسائیکل سوار کو ماہانہ 2 ہزار روپے ریلیف دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے عوام پر پڑنے والے اثرات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پر وزارتِ پٹرولیم اور وزارتِ خزانہ نے مجوزہ ریلیف سکیم پر کام شروع کر دیا ہے،جس کا بنیادی مقصد پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کم اور متوسط آمدن والے طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وفاقی دارالحکومت سے جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام پر پڑنے والے اضافی بوجھ کا حکومت کو مکمل احساس ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات عام آدمی تک کم سے کم منتقل ہوں اور بالخصوص روزانہ موٹرسائیکل،رکشہ اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔وزیراعظم کے مطابق خصوصی ریلیف سکیم کے تحت موٹرسائیکل،رکشہ،چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کو پٹرول پر 100 روپے فی لٹر تک ریلیف فراہم کرنے کی تجویز ہے۔مجوزہ طریقہ کار کے مطابق دو اور تین پہیوں والی سواریوں کیلئے ماہانہ 20 لٹر پٹرول پر 100 روپے فی لٹر کے حساب سے ریلیف دیا جائے گا جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لٹر پٹرول پر 100 روپے فی لٹر ریلیف فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر موٹرسائیکل سواروں کیلئے تین ماہ تک ماہانہ 2 ہزار روپے کا براہِ راست ریلیف دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ مجوزہ سکیم کے تحت یہ رقم پٹرول کی خریداری کیلئے استعمال کی جا سکے گی اور اس رقم سے موجودہ قیمتوں کے حساب سے تقریباً 5 لٹر پٹرول خریدا جا سکے گا۔ حکومت کی جانب سے ریلیف براہِ راست فراہم کرنے کیلئے ڈیجیٹل نظام استعمال کرنے کی تجویز ہے تاکہ مستحق صارفین تک رقم شفاف اور براہِ راست طریقے سے پہنچائی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلیف فراہم کرنے کیلئے ”ریلیف فیول ایپ” کے ذریعے رقم دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔اس نظام کے تحت موٹرسائیکل اور دیگر اہل گاڑیوں کے مالکان کی معلومات حاصل کرکے ان کی رجسٹریشن کی جائے گی اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق انہیں پٹرول کی خریداری کیلئے مالی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔حکومت کی جانب سے تیار کیے جانے والے مجوزہ منصوبے میں موٹرسائیکل،رکشہ،چنگچی اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کی شناخت اور رجسٹریشن کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ اس مقصد کیلئے صوبائی حکومتوں سے بھی تعاون لیا جا رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے موٹرسائیکل،رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق ضروری معلومات کی فراہمی اور رجسٹریشن کے عمل میں تعاون پر صوبائی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وزیراعظم کے اعلان کے مطابق اسلام آباد کی حدود میں خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سے کیا جائے گا جبکہ ملک کے دیگر حصوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سکیم کا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت نے ریلیف سکیم کیلئے رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔حکام کے مطابق رجسٹریشن کے طریقہ کار،اہلیت کے معیار،مطلوبہ معلومات اور ریلیف حاصل کرنے کے طریقہ کار سے متعلق عوام کو باقاعدہ آگاہی مہم کے ذریعے معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط اور مالیاتی حدود کے باعث پٹرولیم لیوی میں کمی کرنے کی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ اسی طرح 430 ارب روپے کے ہنگامی فنڈ سے مجوزہ پٹرول ریلیف کیلئے رقم استعمال کرنے کی تجویز بھی وزارتِ خزانہ کی جانب سے مسترد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق اسی صورتحال کے باعث حکومت براہِ راست اور ہدفی ریلیف فراہم کرنے کے ایسے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے جس سے ایک طرف عام صارفین کو پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے کچھ تحفظ دیا جا سکے اور دوسری جانب ملکی مالیاتی نظم و ضبط، بجٹ اہداف اور آئی ایم ایف سے متعلق شرائط بھی متاثر نہ ہوں۔
حکومت کے مجوزہ ریلیف پیکیج کا بڑا ہدف وہ شہری ہیں جن کیلئے موٹرسائیکل روزگار،آمدورفت اور روزمرہ ضروریات کا بنیادی ذریعہ ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے نتیجے میں موٹرسائیکل سواروں کے ماہانہ سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،اس لیے حکومت کی جانب سے براہِ راست مالی معاونت کی تجویز کو اسی طبقے پر فوری بوجھ کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔حکام کی جانب سے سکیم کے حتمی خدوخال،رجسٹریشن کے مکمل طریقہ کار اور ریلیف کی ادائیگی کے نظام کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ خصوصی پٹرول ریلیف سکیم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔