Home » حکومت کی پٹرولیم ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد،پمپ اونرز ایسوسی ایشن کا سخت ردعمل،ملک گیر احتجاج کی دھمکی

حکومت کی پٹرولیم ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد،پمپ اونرز ایسوسی ایشن کا سخت ردعمل،ملک گیر احتجاج کی دھمکی

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے جانے کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں پٹرول پمپ مالکان اور حکام کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے جبکہ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے مجوزہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے ہڑتال کا عندیہ دے دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق چیئرمین آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نعمان علی بٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی مجوزہ پٹرولیم پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی ناقابل قبول ہے اور اس پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں پٹرول پمپ مالکان پر اضافی بوجھ پڑے گا،جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پٹرول پمپ مالکان اس پالیسی پر شدید تحفظات رکھتے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ کسی بھی فیصلے سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔ان کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں(او ایم سیز)کے ساتھ نرخوں کے تعین سے پہلے پمپ مالکان سے مشاورت ناگزیر ہے۔نعمان علی بٹ نے خبردار کیا کہ نئی پالیسی کے نفاذ سے نہ صرف قیمتوں کے تعین کا نظام متاثر ہوگا بلکہ آئل ٹینکرز اور ٹرانسپورٹیشن کا پورا ڈھانچہ بھی دباو کا شکار ہو سکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ حکومت یکطرفہ فیصلوں کے بجائے مشاورت کے عمل کو یقینی بنائے تاکہ کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے پالیسی واپس نہ لی تو آئندہ ہفتے ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کا آپشن زیر غور لایا جائے گا،جس سے پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب اس سے قبل وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے حالیہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کے شعبے میں اصلاحات کے تحت ڈی ریگولیشن کی طرف بڑھ رہی ہے اور کابینہ نے اوگرا کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق اوگرا عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاو کو مدنظر رکھتے ہوئے یومیہ بنیاد پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین کرے گا جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی کی سطح پہلے ہی کم رکھی گئی ہے تاکہ عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے پٹرولیم شعبے میں ڈی ریگولیشن کا اقدام طویل المدتی اصلاحات کا حصہ ہے، تاہم اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات اور ممکنہ احتجاج اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں،جس کے باعث حکومت اور پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کی ضرورت مزید اہم ہو گئی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز