اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)عوام پر مہنگائی کا ایک اور بڑا وار کرتے ہوئے حکومت نے راتوں رات پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے،جس کے ساتھ ہی لیوی میں بھی بڑا اضافہ سامنے آیا ہے۔اس فیصلے نے نہ صرف ایندھن کی قیمتوں کو نئی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے بلکہ ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر کے خدشات کو بھی جنم دے دیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا ہے،جس کے تحت پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 6 روپے 51 پیسے اور 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔پیٹرولیم ڈویڑن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گیا ہے،جس کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھ کر 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے،جس کے باعث قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔پیٹرول پر لیوی 103 روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 112 روپے 14 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر لیوی 28 روپے 69 پیسے سے بڑھا کر 37 روپے 33 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔اسی طرح ہائی آکٹین کی لیوی بھی بڑھا دی گئی ہے،جس سے مجموعی طور پر ایندھن کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق یکم مئی کی سرکاری تعطیل کے باعث قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان قبل از وقت کیا گیا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے،جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔پس منظر میں دیکھا جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران شدید اتار چڑھاو دیکھنے میں آیا،جس کی ایک بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازعات ہیں۔ ان عالمی حالات کے اثرات پاکستان میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں،جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار نمایاں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔
رواں سال کے دوران پیٹرولیم قیمتوں میں کئی مرتبہ بڑے پیمانے پر اضافہ اور کمی کی گئی،جس نے مارکیٹ اور عوام دونوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا۔ مارچ اور اپریل میں ہونے والے بڑے اضافوں اور بعد ازاں جزوی کمی کے باوجود حالیہ اضافہ ایک بار پھر مہنگائی کے دباو کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے،جس پر عوامی اور معاشی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔