Home » پیٹرولیم قیمتوں میں اتنی معمولی کمی کہ حکومت خود بھی شرم سے پانی پانی ہو جائے،پیٹرول 14 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 89 پیسے سستا

پیٹرولیم قیمتوں میں اتنی معمولی کمی کہ حکومت خود بھی شرم سے پانی پانی ہو جائے،پیٹرول 14 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 89 پیسے سستا

by ahmedportugal
27 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول صرف 14 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 89 پیسے فی لیٹر سستا کردیا،جس کے بعد یکم اکتوبر سے پیٹرول 387 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل 400 روپے 35 پیسے فی لیٹر فروخت ہو گا۔مسلسل مہنگی پیٹرولیم مصنوعات کے باعث عوام کو بڑی کمی کی توقع تھی تاہم تازہ فیصلے میں معمولی ریلیف نے شہریوں کی توقعات مزید ماند کردی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کردیا تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو اور مسلسل مہنگائی کے دباو کے باعث عوام کو جس نمایاں ریلیف کی توقع تھی،تازہ فیصلے میں اس کا عکس دکھائی نہیں دیتا۔یکم اکتوبر سے پیٹرول کی قیمت میں صرف 14 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 89 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے،جس کے بعد پیٹرول 387 روپے 40 پیسے اور ڈیزل 400 روپے 35 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہو گا۔معمولی کمی کے باوجود دونوں اہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بدستور انتہائی بلند سطح پر برقرار ہیں،جس کے براہ راست اثرات روزمرہ سفری اخراجات،اشیائے ضروریہ کی ترسیل،کاروباری سرگرمیوں اور مجموعی مہنگائی پر مرتب ہوتے ہیں۔حالیہ فیصلے کی خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں محض 14 پیسے کی کمی کی ہے،جو فی لیٹر قیمت کے مقابلے میں انتہائی معمولی فرق بنتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 89 پیسے کی کمی ضرور کی گئی ہے تاہم اس کے باوجود اس کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے زیادہ برقرار ہے۔ڈیزل ملک میں مال بردار گاڑیوں،زرعی مشینری،بسوں اور مختلف تجارتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے،اس لیے اس کی قیمت میں نمایاں کمی کو معیشت اور عام صارف دونوں کے لیے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

تازہ فیصلے کو گزشتہ چند روز کے دوران پیٹرولیم قیمتوں میں ہونے والی مجموعی کمی کے تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کی جانب سے قیمتوں میں بتدریج کمی کا سلسلہ ضرور سامنے آتا ہے تاہم ہر مرحلے پر کمی کا حجم محدود رہا ہے۔گزشتہ روز پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 49 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں دو روپے 73 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی جبکہ اس سے قبل پیر کے روز بھی پیٹرول دو روپے 27 پیسے اور ڈیزل تین روپے 56 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا تھا۔یوں چند روز کے دوران مجموعی طور پر پیٹرول کی قیمت میں تقریباً چار روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں آٹھ روپے 18 پیسے تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود موجودہ قیمتیں اب بھی صارفین کے لیے بھاری مالی بوجھ کا باعث بنی ہوئی ہیں۔خاص طور پر پیٹرول کی قیمت تقریباً 387 روپے اور ڈیزل کی قیمت 400 روپے سے تجاوز کرجانے کے باعث معمولی کمی کا عملی فائدہ عام صارف کی جیب پر فوری اور نمایاں طور پر محسوس ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں،درآمدی لاگت،پریمیم،شرح تبادلہ اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔حالیہ عرصے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی کئی عوامل کے باعث دباو کا شکار رہی ہیں تاہم بین الاقوامی سطح پر جاری جغرافیائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے قیمتوں میں بڑی کمی کے امکانات کو محدود رکھا ہے۔رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑی حد تک مستحکم رہیں۔دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ایسی صورتحال میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی کے امکانات محدود ہونے کا اثر مقامی قیمتوں کے تعین پر بھی پڑ رہا ہے تاہم عوامی سطح پر اصل سوال صرف عالمی منڈی کی صورتحال نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ جب قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس کا حقیقی مالی فائدہ صارفین تک کس حد تک منتقل ہوتا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چند پیسوں یا محدود رقم کی کمی ایسے وقت میں عوام کے لیے بڑا ریلیف ثابت نہیں ہوتی جب آمدنی،سفری اخراجات،اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر موجود ہوں۔پیٹرول کی قیمت براہ راست عام شہری کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتی ہے۔موٹر سائیکل،رکشہ،کار اور دیگر نجی یا عوامی سفری ذرائع استعمال کرنے والے افراد کے لیے ایندھن کے اخراجات روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ ہیں۔اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی کا اثر صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ مال برداری اور زرعی سرگرمیوں کے ذریعے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔اس لیے ڈیزل میں معمولی کمی کا اثر بھی اس وقت تک نمایاں نہیں ہوتا جب تک ترسیل اور پیداواری لاگت میں خاطر خواہ کمی نہ آئے۔موجودہ قیمتوں کے تناظر میں حکومت کا تازہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ مسلسل چند دنوں میں قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل اب بھی انتہائی بلند سطح پر موجود ہیں۔اس صورتحال میں عوامی توقعات ایک بڑے ریلیف سے وابستہ تھیں تاہم تازہ نوٹی فکیشن میں پیٹرول کی قیمت میں صرف 14 پیسے کی کمی نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ماہرین کے مطابق پیٹرولیم قیمتوں کا جائزہ صرف ایک دن یا ایک نوٹی فکیشن کی بنیاد پر نہیں لیا جاسکتا بلکہ عالمی خام تیل کی قیمت،ملکی درآمدی لاگت،روپے کی قدر،حکومتی محصولات اور دیگر عوامل کو مجموعی طور پر دیکھنا ضروری ہے۔یہی عوامل طے کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر خام تیل سستا ہونے کی صورت میں پاکستان میں صارفین کو کتنی کمی منتقل کی جاسکتی ہے۔حکومت کی جانب سے تازہ کمی کے بعد یکم اکتوبر سے پیٹرول 387 روپے 40 پیسے اور ڈیزل 400 روپے 35 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو گا۔اگرچہ قیمتوں میں کمی کا تسلسل بظاہر صارفین کے لیے مثبت پیش رفت ہے تاہم کمی کی موجودہ شرح اور مجموعی قیمتوں کی بلند سطح کے باعث یہ ریلیف عوامی مالی مشکلات میں نمایاں کمی لانے کے لیے ناکافی دکھائی دیتا ہے۔یوں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان تو کردیا گیا ہے لیکن پیٹرول کی قیمت میں صرف 14 پیسے کی کمی نے اس فیصلے کے عملی فائدے پر سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔عوام کے لیے اصل ریلیف اس وقت محسوس ہو گا جب عالمی قیمتوں میں کمی کا مناسب حصہ مقامی صارفین تک منتقل ہو،قیمتوں میں نمایاں کمی آئے اور اس کے اثرات سفری اخراجات،اشیائے ضروریہ اور مجموعی مہنگائی میں بھی واضح طور پر دکھائی دیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز