Home » پیٹرول بحران کا خطرہ،ڈیلرز نے حکومت کو 72 گھنٹے کی مہلت دے دی،15 اگست سے ملک گیر پمپس بند کرنے کی دھمکی

پیٹرول بحران کا خطرہ،ڈیلرز نے حکومت کو 72 گھنٹے کی مہلت دے دی،15 اگست سے ملک گیر پمپس بند کرنے کی دھمکی

by ahmedportugal
25 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان بھر میں ایک بار پھر پیٹرول پمپس کی ممکنہ ملک گیر بندش کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے،پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو 72 گھنٹے کی حتمی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 15 اگست کی صبح 6 بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس غیرمعینہ مدت کے لیے بند کردیئے جائیں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ڈیلرز کے مطالبات سے آگاہ کیے ہوئے 15 روز گزر چکے ہیں تاہم تاحال ان مطالبات پر کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ مسلسل انتظار کے باوجود مسئلہ حل نہ ہونے پر ایسوسی ایشن نے ملک گیر احتجاج اور پیٹرول پمپس کی بندش کا فیصلہ کیا ہے۔ملک خدا بخش نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن موجودہ سطح سے بڑھا کر 8 فیصد کیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے نظام پر بھی نظرثانی کی جائے۔ان کے مطابق قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سے ڈیلرز کو مالی نقصان اور کاروباری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ڈیلرز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل کے باعث پمپس پر موجود سٹاک کی قیمت میں فوری تبدیلی آتی ہے،جس سے کاروباری منصوبہ بندی مشکل ہوگئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈیلر مارجن بجلی،ملازمین، کرایوں،آپریشنل اخراجات اور دیگر کاروباری لاگت کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے،اس لیے مارجن میں اضافہ ناگزیر ہے۔ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت مقررہ 72 گھنٹوں کے دوران مطالبات پر مثبت اور عملی فیصلہ نہیں کرتی تو 15 اگست کو صبح 6 بجے سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کردیئے جائیں گے اور یہ بندش غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا یہ تنازع بنیادی طور پر ڈیلر مارجن اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ انہیں بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات کے مقابلے میں موجودہ مارجن سے مناسب مالی گنجائش حاصل نہیں ہورہی جبکہ قیمتوں میں بار بار تبدیلی نے ان کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔رواں سال مارچ میں بھی پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مارجن 8 فیصد کرنے کے مطالبے پر ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دی تھی۔اس وقت ڈیلرز کا موقف تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل سمیت مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے لیکن ڈیلرز کا مارجن اسی تناسب سے نہیں بڑھایا گیا،جس کے باعث ان کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔بعد ازاں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشے کے پیش نظر مارچ میں اعلان کردہ ہڑتال موخر کردی گئی تھی تاہم مارجن 8 فیصد کرنے کا مطالبہ برقرار رہا۔

حکومت نے گزشتہ ماہ جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ کی بنیاد پر نیا نظام متعارف کرایا تھا۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس نظام کے تحت قیمتوں کا تعین 7 روزہ رولنگ ایوریج کی بنیاد پر کیا جانا تھا،جس کا مقصد قیمتوں کے تعین کے عمل میں شفافیت پیدا کرنا اور مارکیٹ میں ممکنہ بگاڑ کو روکنا ہے۔20 جولائی کو پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد نے حکومت کے ساتھ ملاقات میں روزانہ قیمتوں کے طریقہ کار کی حمایت بھی کی تھی تاہم اسی موقع پر ڈیلرز نے اپنے مارجن کو 8 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ دہرایا تھا۔وفاقی وزیر پیٹرولیم نے مارجن کے معاملے پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ ڈیلرز کے مارجن اور دیگر متعلقہ معاملات پر اوگرا حکام کے ساتھ مشاورت بھی طے کی گئی تھی تاہم بعد ازاں روزانہ قیمتوں کے نظام پر پیٹرولیم شعبے کے مختلف حلقوں میں اختلافات سامنے آئے۔

بعض پیٹرول پمپ مالکان اور متعلقہ تنظیموں نے نئے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے ان کے مارجن اور کاروباری معاملات متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ اضافی لاجسٹک اخراجات کا بوجھ بھی بڑھ سکتا ہے۔اب ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی 72 گھنٹے کی مہلت نے حکومت کے لیے صورتحال کو ایک بار پھر حساس بنا دیا ہے۔اگر مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل نہ ہوا اور 15 اگست سے ملک گیر پیٹرول پمپس بند کردیئے گئے تو اس کے نتیجے میں شہریوں،پبلک ٹرانسپورٹ،مال بردار گاڑیوں اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔حکومت اور ڈیلرز کے درمیان آئندہ 72 گھنٹے کے دوران ہونے والی بات چیت اس بحران کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ڈیلرز نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے جبکہ ممکنہ ملک گیر بندش سے بچنے کے لیے حکومت کے پاس مذاکرات کے ذریعے قابلِ قبول حل تلاش کرنے کے لیے محدود وقت باقی رہ گیا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز