اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’غزہ بورڈ آف پیس‘ منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ بظاہر امن کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے تاہم درحقیقت یہ غزہ پر قبضے اور فلسطینی عوام کے حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے، اس نام نہاد بورڈ آف پیس کے ذریعے نہ تو غزہ کے مسئلے کا منصفانہ حل ممکن ہے اور نہ ہی یہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپنے جاری کردہ بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکی صدر کا یہ منصوبہ یکطرفہ ہے اور اس میں فلسطینی عوام کی رائے، خواہشات اور زمینی حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے عالمی فورمز، جو طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے تابع ہوں، کبھی بھی مظلوم اقوام کے مسائل کا منصفانہ حل فراہم نہیں کر سکتے۔لیاقت بلوچ نے داخلی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں وزیر دفاع کی شعلہ بیانی نے اتحادی جماعتوں کے لیے ”نورا کشتی“ کا نیا سیاسی اکھاڑا کھڑا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سنجیدہ قومی معاملات پس منظر میں جا رہے ہیں اور پارلیمانی وقار مجروح ہو رہا ہے۔انہوں نے حکومت کی زرعی پالیسیوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کرنا کسان دشمن فیصلہ ہے، جو ملک کے زرعی شعبے اور کسانوں کی معاشی بقا کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے باعث کسان شدید مالی دباو کا شکار ہو رہے ہیں اور زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے، لہٰذا حکومت کو فوری طور پر اس پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔اس سے قبل جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر کے غزہ بورڈ آف پیس منصوبے میں پاکستان کی شمولیت کے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کسی ایسے فورم کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو فلسطینی عوام کے تاریخی، قانونی اور اخلاقی حقوق کے منافی ہو۔واضح رہے کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس منصوبے کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس کے چارٹر پر دستخط بھی کر دیئے ہیں، جس کے بعد ملک کے اندر سیاسی اور مذہبی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید بحث اور اختلافی آرا سامنے آ رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے سامنے آنے والا سخت ردعمل حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی دباو پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ کی صورتحال عالمی سطح پر انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
بورڈ آف پیس پر دستخط مگر مخالفت میں اضافہ،لیاقت بلوچ نے منصوبے کو غزہ پر قبضہ قرار دے دیا
3